خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 395

۳۹۵ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ الله يبدوا الخَلَن تُم يُعيد بعنی الله تعالی پیداش عالم ین کو شروع بھی کرتا ہے اور پھر اس سلسلہ کو دہراتا بھی جاتا ہے۔ اسی طرح ابراہیمی مقام بھی چکر کھاتا رہتا ہے۔ پہلا ابراہیم جا ابراہیم جاتا ہے تو ایک اور ابراہیم آجاتا ہے۔ ر ابراہیم آجاتا ہے۔ دوسرا جاتا ہے تو تیسرا آ جاتا ہے اور یہ سب کچھ يُعِید کے ماتحت ہوتا ہے ۔ پس تم خدا تعالے کے اس قانون سے فائدہ اٹھاؤ اور دعائیں کرنے کی عادت پیدا کرد تا تمھیں بھی خدا تعالے کی طرف سے رڈیا وکشون ہونے لگیں مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں نے اپنے ایک خطبہ میں نوجوانوں کو دعا کی طرف توجہ دلائی تو میرے پاس درجنوں ایسے خطوط آئے جن سے معلوم معلوم ہوتا تھا کہ انہیں رویا و کشون ہونے لگ گئے ہیں جبکہ بعض کو خدا تعالے کی زیادہ اشه بھی ہوئی ۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ انہوں نے اس کا تجربہ کیا اور پھل کھایا۔ تم بھی اس کا تجربہ کرد یہاں تک کہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہ ہو جسے دعاؤں اور گریہ و زاری کی وجہ سے رویا و کشون نہ ہونے لگ جائیں ۔ اسی طرح تم رہے دل مضبوط ہو جائیں گے اگر کوئی آفت آئے اور لوگ تھیرا جائیں تو تم انہیں کہو کہ گھبرا امت میں نے رات کو رویا میں دیکھا ہے یا مجھے الہام ہوا ہے کہ خدا تعالے یہ آفت دور کر دے گا اور ترقی کے سامان پیدا کر دے گا۔ پھر تمہاری اولادیں رویا کی شوف اور الہام سے مشرف ہوں ۔ اور وہ لوگوں کو گھبراتے دیکھ کر کستی دیں ۔ پھر تمہارے پوتوں اور پڑ پوتوں کو بھی الہام ہوں اور یہ سلسلہ ہزاروں سال تک چلتا چلا جائے۔ مگر یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ تم نہ صرف خود دعاؤں کی عادت ڈالو بلکہ اپنی اولاد کو بھی دعاؤں کی عادت ڈالو۔ ان کے اندر خدا تعالے کے لئے کی محبت پیدا کرو۔ تم اسمعیل پیدا کرو۔ ابراہیم خود آئیں گے خود آئیں گے اور یہ سلسلہ دنیا میں ہمیشہ جاری رہے گا یہانتک کہ ساری دنیا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل پھیل جائے گی۔ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔ لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ لمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتباع کیا کہ اگر موسی اور عینی بھی زندہ ہوتے تو انہیں میری اطاعت کے بغیر کوئی چارہ نہ ہوتا حالانکہ موسی اور علیلی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ پس اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مجيد کی دعا سکھا کر اللہ تعالے نے موسی اور عیسی کو بھی آپ کی غلامی میں دیدیا اور تبا دیا کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو آپ کی کامل اتباع کرتے اور آپ کی امت بن جاتے گویا بتایا کہ اب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کوئی علیحدہ امت نہیں رہی بلکہ اب تیری امت بن کر ہی ان کی امت بنے گی۔ پہلے کوئی تیرا مطیع بنے گا تو پھر ابراہیم علیہ السلام کا مطیع ہوگا ، اسی طرح یہ در و د چکر کھاتا چلا جائے گا۔ اس نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ ایک معجزانہ کلام ایک معجزانہ کلام ناتا