خطبات محمود (جلد 2) — Page 385
۳۸۵ لدلد کے در فر بوده ۳۱ ر جولاتی ه بہت م لندن) یہ عید جس کو مسلمان عید الاضحیہ کہتے ہیں یعنی قربانیوں کی عید۔ یہ ابراہیم علی سلام کے ایک بیٹے کی یاد میں منائی جاتی ہے جس کے قربان کرنے کا اللہ تعالے لئے ابراھیم کو حکم دیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ اس حکم کو پورا کرنے کے لئے ہوا براہیم تیار ہو گیا تھا ر ہو گیا تھا، وہ کونسا بیٹا تھا اس معاملہ میں اسلام اور عیسائیت میں اختلاف ہے۔ بائیبل کہتی ہے کہ وہ ہمی تھا ۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ اسمعیل تھا جہانتک اس واقعہ سے جو نتیجہ نکلتا ہے۔ اس کا تعلق ہے نہ بوح اسحق ہو یا اسمعیل ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ بات ایک ہی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا نے اپنے ایک بیٹے کی قربانی کا حکم دیا ،اور اس نے قبول کر لیا۔ لیکن جہاں تک اس واقعہ کے اخلاقی پہلو کا تعلق ہے قرآن کا بتایا ہوا واقعہ بہت زیادہ معقول معلوم ہوتا ہے۔ بائیبل کہتی ہے کہ خدا نے ابراہیم کو اسی کے قتل کرنے کا حکم دیا۔ اور اس نے اسے قبول کر لیا۔ لیکن پھر وہ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب وہ اسے ذبح کرنے لگا تو فرشتہ نے اسے منع کر دیا کہ اس کو مت ذبح کر بلکہ ایک بکہ اجو جھاڑیوں میں پھنسا ہوا کھڑا اتھا تھا اسے ذبح کرے گویا اسحق کو کسی شکل میں بھی ، نہ ظاہری الفاظ میں تشبیہی ی ! الفاظ سکھا میں ذبح کیا گیا ۔ گویا یہ سارا واقعہ ایک مضحکہ تھا ۔ ایک کھیل تھا۔ جو خدا نے ابراہیم سے کھیلا آخر اس میں کیا لطف تھا کہ پہلے تو خدا نے ابراہیم سے کہا کہ تو اسطوح کو ذبح کر اور پھرا سے منع کر دیا ۔ بعض عیسائی پادری کہتے ہیں کہ خدا تعالے نے اس ذریعہ سے ابراہیم کو بتایا کہ انسانی قربانی آئندہ نہیں ہوگی ہے لیکن یہی بات خدا تعالے اس سے زیادہ حمدہ اور صاف الفاظ میں بھی کر سکتا تھا۔ انکھ قرآن کریم نے جو اسمعیل کا واقعہ بیان کیا ہے۔ وہ نہایت معقول ہے اور ہر آدمی سمجھ سکتا ہے ۔ کہ اس واقعہ میں بہت سی حکمتیں تھیں اس میں کہا گیا ہے کہ خدا تعالے نے ابر اہمیت کو دو حکم دیئے ایک یہ کہ تو اسمعیل کو ذبح کر اور دوسرے یہ کہ تو اسمعیل کو بغیر پانی اور بغیر کھیتی باڑی والی جگہ میں چھوڑ آیعنی مکہ میں جہاں وہ اس لئے دنیا سے دور رہ کر اور بھوک پیاس کی تکلیف برداشت کر کے زندگی گزارے کہ لوگوں کو دین کی تعلیم دے اور خدائے واحد کی عبادت میں لگائے۔ گویا اسمعیل کی قربانی کا جو ابراہیم کو حکم دیا گیا تھا وہ تشبیہی زبان میں تھا۔ مراد یہ نہ تھی کہ واقعہ میں چھری سے اپنے بیٹے کو ذبح کرے جو بے کار اور بیہودہ فعل ہے بلکہ ذبح