خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 31

۳۱ اس سے مانگنے مان آئیں گے۔ لے تو دے گا ۔ یہ بہت بڑھ بڑے کر سخاوت ہے اور یہ صرف حضرت مسیح کے متعلق ہی فرمایا ہے اور کسی کے متعلق نہیں فرمایا ۔ اور ایسے ہی آدمی کو کوثر کر سکتے ہیں ۔ تو انَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ میں مسیح موعود کی آمد کی پیشگوئی کی گئی ہے ۔ پھر دیکھئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ سلمان منا اهل البیت کہ مسلمان میرے اہل بہ به برے اہل بیت سے ہیں۔ یہاں سوال ہوتا ہے کہ جس طرح مسلمانی فارسی صحابی ہونے کی وجہ سے اہل بیت تھے تو اسی طرح تو اور صحابہ بھی اہل بیت میں سے ہی تھے پھر ان کے متعلق خاص طور پر کیوں کہا گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد سے ایک بیٹے کا وعدہ دیا گیا تھا اور وہ حضرت مسلمان ان فارسٹی کی نسل سے ہونا تھا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو انا اپنا اہل بیت قرار دے کر یہ بتایا ہے کہ وہ میرا ہی بیٹا ہو گا تو اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فارسی النسل کو اپنا بیٹیا قرار دیا ہے پس ان سب باتوں کو پیش نظر رکھنے سے کہ انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر کہ مسلمان بالشت با بالشت یهود و نصاری کی اتباع کریں گے یعنی پورے پورے یہودی اور عیسائی بن جائیں گئے، بتا دیا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جبکہ روحانی سلسلہ منقطع ہونے کے اسباب پیدا ہو جائیں گے ۔ (۲) یہ کہ حضرت مسیح کے متعلق يَفِيضُ الْمَالَ فرما کر پیشگوئی کی ہے کہ مجھے ایک ایسا روحانی بیٹا دیا جائے گا جو بڑا سخی ہوگا اور وہ میری روحانی نسل کو منقطع ہونے سے بچالے گا ۔ (س) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کفار کا ابتر ہونے کا اعتراض کرنا اور اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کا إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكُوشَرَ فرمانا۔ (۴) کوثر کے معنی گفت نت میں بہت بڑے سخی کے ہونا ۔ ان سب باتوں سے پتہ لگتا ہے کہ یہاں حضرت مسیح موعود ہی مراد ہیں لیکن اگر کوثر کے معنی محدود کر دیئے جائیں اور اس سے صرف بہشت کی نہر سمجھی جائے تو یہ ایسی ہی بات ہو گی کہ اعتراض کچھ کیا تھا اور جواب کچھ اور دیا گیا ہے جس کا اعتراض سے بالکل کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی کوئی عقل مند اسے اس اعتراض کا جواب کہہ سکتا ہے ۔ پس اس وجہ سے کوثر کے ایسے معنے کرنا ضروری ہیں کہ جن سے بیٹیا مراد ہو مگر با وجود اس کے ہم کوثر کے معنی کو اسی پر محدود نہیں کر سکتے ۔ بلکہ ہیں کہتے ہیں کہ کوثر سے جس طرح اس نہر کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک روحانی بیٹے کی طرف بھی اس میں اشارہ ہے ۔