خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 30

جو بہت نیک اور بڑا سخی ہو گا ۔ اب ہم کو دیکھنا یہ ہے کہ وہ کو ان ہے جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا قرار دیا گیا ہے۔ اگر یہاں ہم عقل و فکر سے کام لیں اور قرآن کریم کو سامنے رکھیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جس اولاد کا ذکر کیا گیا ہے وہ مہمانی انی اولاد کے متعلق تو خدا تعالے صاف طور نہیں بلکہ روحانی ہے کیونکہ جسمانی اولاد طور پر فرما چکا ہے کہ یہ نبی تم میں سے کسی کا بار ی کا باب نہیں ہے ۔ روحانی رفو 6 اب جبکہ یہ ثابت ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی اولاد کی خبر نہیں دی گئی بلکہ کی دی گئی ہے تو یہ بات باقی رہ گئی ہے کہ یہ خبر کس زمانہ اور کسی وقت میں پوری ہونی چاہیے تو یہ صاف بات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کفار کا روحانی اولاد کے سلسلہ کے نچلنے کے متعلق اعتراض نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اس وقت ابو بنجره - عمر ، عثمان ، علی زیست اور بہت اور بہت سے اعلیٰ شان اور درجہ کے صحابہ موجود تھے ۔ اور وہ انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد روحانی سلسلہ کو جاری رکھ سکتے تھے چنانچہ انہوں نے جاری رکھار تو یہ اعتراض اسی وقت ہو سکتا تھا جب کہ یہ خطرہ ہو کہ روحانی نسل کا سلسلہ منقطع ہو جا ئیگا اس لئے ایسے ہی زمانہ کے متعلق یہ خبر ہے کہ جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس وقت مسلمان یہودی اور نصاری ہو جائیں گے تے پس جس زمانہ میں مسلمان یہودی اور نصاری ہو گئے تو پھر یہ صاف بات ہے کہ اس وقت وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دھانی اولاد نہیں ہو سکتے ۔ اسی وقت یا اعتراض ہو سکتا ہے کہ پھر ان کی روحانی اولاد کا سلسلہ کسی طرح چلی گا اس کا جواب خدا تعالے نے یہ دیا ہے کہ اِنا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ - ہم تجھے اس وقت ایک ایسا بیٹا دیں گے جس سے رُوحانی نسل چلے گی۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب مسیح آئے گا تو وہ لوگوں کو اس قدر مال دے گا کہ کوئی قبول نہیں کرے گا۔ یعنی وہ اس قدر سخی ہوگا کہ ساری دنیا پر اس کی سخاوت پھیل جائے گی ۔ اس کے متعلق يُعيضُ المال بھی آیا ہے اور يَقيضُ المَال ہے بھی کہ وہ خوب مال لٹائے گا اور لوگوں کو خوب مال ملے گا۔ مگر لوگ نہیں لیں گے ہاں اس کی طرف سے دینے میں کوئی کوتا ہی رہو گی تو گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ میں آنے والے مسیح کا نام دوسرے لفظوں میں کا لفظوں میں کوثر رکھا ہے کیونکہ کوثر کے معنے بہت بڑے سخی کے بھی ہیں۔ اور مسیح کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ اس مدرسہ ہے کہ وہ اس قدر سخاوت کرے گا کہ لوگ قبول نہیں کرنیگے عام طور پر سخی اس کو کہا جاتا ہے جس سے کوئی مانگے اور وہ دے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ خود لوگوں کے پاس جا کر مال دے گا۔ نہ یہ کہ جب