خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 362

۳۶۲ سب سے زیا زیادہ آپ کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہوں ، ان میں المیان ہو، تقویٰ ہو، پر سیر گاری ہو ۔ سعادت ہو۔ ان کی ہر بات خدا تعالے کو یاد لئے کو یاد دلانے والی ہو۔ ان کا ایک ایک لفظ خدا تعات لیئے کے ذکر کو بلند کرنے والا ہو اور اسلام کو وہ شوکت حاصل ہو اور اسلام کو وہ شوکت حاصل ہو جس کا وہ مستحق ہے۔ پھر ہم دعا کرتے ہیں کہ مکہ کے رہنے والے اسلام مام کی کی صحیح خدمت کرنے والے والے ہے ہوں ۔ اللہ تعالے چاروں طرف سے ان کے لئے رزق مہیا کرے وہ کسی کے محتاج نہ ہوں۔ انہیں سوالی کی عادت : نہ ہو۔ اللہ تعالٰے ان کی ہر قسم کی احتیاج کو دور کرے ان کی کمینگی اور ذلت جاتی رہے ۔ اللہ تعالی انہیں ان طبیب اور فراواں رزق بہم پہنچا ہ پہنچائے ۔ وہ حج کے لئے لئے جانے والوں سے ہم سے ہمیشہ محبت رکھنے والے ، کے سچے خدمتگار اور معلم ثابت ہوں ۔ پھر ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالئے ہم سب کو حج کی توفیق عطا فرمائے۔ ہم میں سے جن کو چ نصیب نہیں ہوا ، وہ بھی حج کریں ۔ تقویٰ اور پرہیز گاری سے حج کریں اور ایک دلولہ اور شوق سے کریں ۔ جس ایمان سے وہ حج کے لئے جائیں ، اس سے ہزار گنا المیان کے ساتھ وہ واپس آئیں۔ اللہ تعا تعالے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکومت کو دنیا میں قائم کرے اور کفر و ضلالت کو مٹا دے ۔ باتوں کو بگاڑ کر پیشیں کرنے والوں اور جھوٹ بولنے والوں کو تباہ کرے اور لوگوں کو ان کے پنچہ سے نکالے نا وہ سمجھے متقی اور پر ہیز گار بن جائیں۔ وہ صالح ہو جائیں ، وہ شہید ہو جائیں ماوه صداو صدیق ہو جائیں اور جب کبھی بھی اسلام ناموروں کا محتاج ہو وہ اس میں ظاہر ہوتے رہیں ۔ اور مسلمانوں کے اندر ایسی نیکی پیدا ہو کہ ان کو دیکھ کر لنے سے نفرت کی بجائے خدا تھا۔ خدا تعالیٰ سے محبت پیدا ہو اور لوگ مسلمانوں کے مذہب کی خدا تعائے۔ طرف خود بخود کھینچے پہلے آئیں ۔ والفضل ۳ اکتوبر ۱۹۵۳) 장 ۳۵ ہے ۔ کتاب الفقه على المذهب الاربعة موقفه عبد الرحمن الجزیره ی جز اول ص ه - دستی باب ۱۰ آیت شه - تاریخ احمدیت جلد م مره ، ص ه - تاریخ احمدیت جلد ۴ منشام " تے ۔ حضرت حافظ احمد اللہ صاحب ناگپوری رضی اللہ عنہ روفات (۱۹۳) نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف تو حج بدل کیا تھا۔ صحیح مسلم کتاب ذکر الدجال ۔ ذكر الدجال وصفته و ما معه ہے ۔ اس واقعہ کا تعلق حضور رضی اللہ عنہ کی ذاتی یاد داشت سے ہے ۔ والفضل باور اکتوبر 1999ء)