خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 325

۳۲۵ ! سحق علیہ السلام کے ذریعہ نہیں پھیلی بلکہ حضرت سمئیل علیہ السلام کے بیٹے حضرت محمد رسول اللہ صلی الہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعہ سے پھیلی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ ہمارا یہ دھوئی غلط ہے، یہ پیشگوئی بو اسحق کے حق میں حضرت مسیح کے ذریعہ سے پوری ہوتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ درست ہوتا تو نبود اسحق اس واقعہ کی یاد میں کوئی عید مناتے مگر ایسا نہیں ہے۔ صرف مسلمان ہی اس گذشتہ واقعہ کی یاد کو تازہ رکھتے ہیں اور اسی طرح اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے ذریعہ ابراهیمی نسل پھیلی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہ کہ مسیح علیہ السلام نے اس شہد کو قائم کیا ہے اور اب ساری دنیا کے مسلمان یہ عید مناتے ہیں نہ کہ مسیحی یا یہودی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے بھی عید الاصحبہ عربوں میں منائی جاتی تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مبعوث ہونے پر اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اسے عالمگیر بنا دیا۔ اس لئے کہ پہلے صرف عرب حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دعونی کے بعد آپ پر ایمان لانے والے سب لوگ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی او اولاد میں شامل ہو گئے اور پیش گوئی پورا ہونے کا وقت آگیا ہے ۔ پھر جہاں ہم یہ عید منا کر رسول کریم صلی الله اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کا راثت کا ایک ثبوت بہم پہنچاتے ہیں۔ وہاں یہ عید اس طلا طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ ہم تبلیغ کے ذریعہ ابراہیمی نسل کو اور بھی بڑھائیں جتنی جتنی ہم تبلیغ کریں گے اور جتنے جتنے مقامات پر اسلام پھیلے گا اتنے ہی شاندار طور پر پیش گوئی پوری ہوگی، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کو بھی ابراهیم ابراہیم که کیا گیا ہے۔ یہ اور میں سمجھتا ہوں کہ اس میں جہاں اس طرف اشارہ رہ ہے کہ آپ کی نسل میں بھی ان کی ہجرت کا نمونہ ملے گا، وہاں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ پیشگوئی آپ کے ذریعہ اور بھی شاندار طور پر پوری پر پوری ہو گی ۔ خدا تعالئے آ الئے آپ سے اور اور آپ کی قوم سے تبلیغ کا کام لے گا اور تبلیغ کے ذریعہ ابراہیمی نسل کو دنیا میں پھیلائے گا۔ پس جب ہم اس عید کے لئے جمع ہوتے ہیں تو اس لئے جمع ہوتے ہیں تا اس نشان کا اظہار ہو اور ہم نئی روح کے ساتھ اٹھیں اور کوشش کریں کہ ابراہیمی نسل اور بھی پھیلے تا وہ نشان پہلے سے دگنا لگنا بلکہ ہزار گنا زیادہ شان سے ظاہر ہو اور ہم یہ کوشش کریں کہ اس جہان میں سوائے ابراہیمی نسل ئے اور کوئی باقی نہ رہے ۔" لله ر الفضل ۲۳ مئی ۶۹) راه سنن ابن ماجه کتاب الاضاحی باب ثواب الاضحية ه صلح حدیبیہ ساندہ میں ہوئی۔ حدیبیہ ایک جگہ کا نام ہے جو مکہ سے و میل کے فاصلے پر بسے تاریخ میں علی صدا)