خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 324

الاسلام دنیا کے کناروں تک پھیل گئی ۔ دوسرے لوگوں نے اپنی اولادیں حضرت سمعیل علیہ السلام کے گھر میں پھینک دیں اور وہ ان کی اولا دیں نہ رہیں بلکہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی روحانی اولادیں بن گئیں لیکن یہ ہوا کس کے ذریعہ۔ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعہ ہوا ۔ پس جب ہم عید مناتے ہیں تو اس پرانے واقعہ کی وجہ سے نہیں مناتے بلکہ اس بات کے اظہار کے لئے مناتے ہیں کہ ہمارا خدا ہارا خدا زندہ ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ ہیں۔ ہیں۔ اور ہم جو آپ کی رحمانی اولاد ہیں زندہ ہیں ۔ ہم اس موقعہ پر جمع ہو کر اور اپنے آپ کو ابراہیمی اولاد کے طور پر پیشی کر کے دنیا سے کہتے ہیں کہ دیکھو ستارے گنے جا سکتے ہیں مگر ابراہیمی نسل نہیں گئی جاسکتی۔ پر جیسا کہ میں نے بتایا ہے فلسطین کے جنوب میں واقع ایک ریگستان میں ایک ایسے شخص جس کی کل جائداد چند بکریاں اور چند گائیں تھیں ، اس کا خاندان پندرہ بیس افراد پرمشتمل تھا، خدا تعالے کا کلام نازل ہوا کہ جو چار ہزار سال کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعہ شاندار رنگ میں پورا ہوا ، ہم آج ربوہ میں جو سینکڑوں سال (جہاں تک اس جگہ کی تاریخ بتاتی ہے، آباد نہیں ہوا ۔ جہاں پانی بھی مشکل سے ملتا تھا ، جمع ہوئے ہیں اور اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ جو بات آج سے چار ہزار سال قبل خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہی تھی ، وہ ہمارے ذریعہ سے پوری ہو رہی ہے ہم محمد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ٹم کے ذریعہ سے اسمعیل اور ابراہیم کی اولاد ہیں اور عرب سے ہزاروں میل دور غیر نہ بانہیں بولتے ہوئے ایک وادی غیر ذی زریخ میں اس امر کی شہادت دے رہے ہیں۔ رہتے ہیں کہ میں تیری اولاد کو بہت ت بڑھاؤں گا اور ستاروں کا گننا ممکن ہو گا مگر تیری اولاد کا گننا ممکن نہ ہو گا۔ ہماری طرح اور لاکھوں جگہ پر مسلمان جمع ہو کر اس بات کا ثبوت بہم پہنچا رہے ہیں کہ خدا تھا۔ کہ تارے گئے تھا انفالسے کا یہ کلام کہ میں تیری نسل کو بڑھاؤں گا اور اتنا بڑھاؤنگا گئے جاسکیں گے مگر تیری نسل گئی نہیں جاسکے گی محمد رسول اللہ صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ شاندار طور پر پورا طور پر پورا ہوا ہے۔ ہو۔ سو ہم یہاں روم ہاں اس لئے جمع نہیں ہوئے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے الہی حکم کے مطابق اپنے اکلوتے بیٹے کی قربانی پیش کی۔ ہم اس لئے یہاں جمع نہیں ہوئے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کمزوری ایمان کا نمونہ نہیں دکھایا ۔ ہم اس لئے یہاں جمع نہیں ہوئے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو بچالیا۔ بلکہ اس لئے جمع ہوئے ہیں تا اس بات کا انتظار کریں کہ یہ جزانہ کلام جو خاص شان رکھتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق تھا اور انہیں کے ذریعہ سے پورا ہوا اور ہم اس کے زندہ گواہ ہیں ۔ پس جہاں بھی یہ عید منائی جاتی ہے ، گویا وہاں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ابراہیمی نسل حضرت