خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 315

۳۱۵ قربانی کے نہیں ہو سکتی ۔ جو قوم یہ چاہتی ہے کہ وہ ترقی یافتہ قوموں کی صفوں میں جا کھڑی ہو اور پھر وہ اپنی اولاد کی قربانی سے دریغ کرتی ہے وہ ایک ناممکن بات کا قصد کرتی ہے اور اپنے وقت کو ضائع کرتی ہے ۔ گری ہوئی قومیں تبھی بڑھتی ہیں اور تبھی وہ ترقی یافتہ قوموں کی صفوں میں اپنا رستہ بنانے میں کامیاب ہوتی ہیں جب وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنی اولادوں کو وادئی غیر ذی زرع میں رکھنے اور خدا کے لئے انہیں قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔ جب وہ مرنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں ، جب وہ اپنی اولادوں کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کے قانون کے ماتحت اس وقت کی زندہ قوموں کی زندہ نسلیں مرجاتی ہیں۔ یہ قانون قدرت ہے جس کا ہر جگہ مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ۔ بوڑھا درخت مرتا ہے اور نیا درخت ترقی کرتا ہے ۔ پس دنیوی لحاظ سے بھی ترقی کی ہی راہ ہے کہ اپنی اولادیں کو قربان کیا جائے ۔ اگر مسلمان چاہتے ہیں کہ وہ یورپ کے لوگوں پر غلبہ حاصل کریں تو انہیں اپنی اولادوں کو قربان کرنا پڑے گا۔ انہیں تعیش کے سامانوں کو اپنے لئے حرام کرنا پڑے گا یہ موت ہے جو انہیں قبول کرنی پڑے گی، اسی موت کے دروازہ سے زندگی ملتی ہے اور اسی روازہ میں سے گزر کر گری ہوئی قومیں دنیا پر غالب آیا کرتی ہیں ۔ اگر آج مسلمان اپنی زندگیوں کو سادہ بنا لیں اور اپنی جانوں اور اپنی اولادوں کی جانوں کو اللہ تعالے کی راہ میں مہربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں تو اب بھی کچھ نہیں گیا۔ جس وقت عیسائیت بڑھنی شروع ہوئی ہے ، اس وقت اسلام کے مقابلہ میں عیسائیت کی جو حالت تھی ، آج عیسائیت کی ترقی کے زمانہ میں مسلمانوں کی حالت اس سے بدرجہا اچھی ہے ۔ اگر عیسائیت ہم سے کمزور ہو کر ساری دنیا پر غالب آسکتی ہے تو مسلمان ساری دنیا پر کیوں غالب نہیں آسکتے ۔ اگر وہ اپنے نفس میں تغیر پیدا کریں اگر وہ اپنی اولادوں کو شیطان کے قبضہ میں دینے کی بجائے خدا تعالیٰ کے قبضہ میں دے دیں تو یقینا اسلام کفر پر غالب آسکتا ہے ، یقینا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حکومت آج بھی ساری دنیا پر قائم ہو سکتی ہے ۔ خدا تعالے سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کے دلوں کے زنگ دور کر دے۔ اور ان کی آنکھو کو کھولے۔ ان کی غفلتوں اور کوتاہیوں کو دور کرے اور انہیں صحیح طور پر کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ تا جس طرح وادی غیر ذی زرع میں بسنے والے انفیل کے ذریعہ اللہ تعالٰی نے ایک نورانی نورانی چراغ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صورت میں روشن کیا جس سے تمام دنیا جگمگا اٹھی ۔ اسی طرح خدا محمدیت کے باغ میں سے ایک نیا پودہ پھوڑے جو ساری دنیا کو اسلام اور صداقت کی طرف کھینچ لا لانے کا موجب ہو۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ پودا خدانے