خطبات محمود (جلد 2) — Page 314
۳۱۴ کہ میں اپنا ایک بیٹا ہمیشہ قادیان میں رکھوں گا نہ اس وجہ سے میرا میں رکھوں گا ۔ اس وجہ سے میرا حق ہے کہ آج کا ہے کہ آج میں ابراہیم کے ساتھ بکرے کا گوشت کھاؤں کیونکہ جو کچھ ابراہیم نے کیا وہی میں نے بھی کیا گو میرا فعل اس شان کا نہیں جس شان کا فعل حضرت ابراہیم کا تھا۔ حضرت ابراہیم نے اپنا اکلوتا بیٹا جو نوے سال کی عمر میں ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا تعالے کی راہ میں قربان کر دیا تھا اور میرے کئی بیٹے ہیں یو ی حضرت ابراہیم کے لئے وہ واد وادی غیر ذی زرع زیادہ خطر ناک تھی۔ آجکل پریس کی وجہ سے کئی قسم کی سہولتیں میسر ہیں ۔ اخبارات کثرت سے شائع ہوتے ہیں اور مظلومیت کی آواز ساری دنیا میں پھیلائی جا سکتی ہے ۔ اگر آجکل ان لوگوں پر جو قادیان میں رہتے ہیں مظالم ہوں ، یا وہ بارے جائیں تو ہم ساری دنیا میں اس کی تشہیر کر سکتے ہیں اور اس اشاعت سے بھی ظالم لوگ ڈرتے ہیں پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میری پیش کردہ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا مقابلہ نہیں کر سکتی لیکن اپنے حالات ہیں ہی ہر شخص قربانی کیا کرتا ہے۔ اگر ابراہیم کا صرف ایک بیٹا تھا اور میرے زیادہ بیٹے ہیں یا اس زمانہ میں پریس کی وجہ سے خبروں کی اشاعت کے سامان موجود ہیں اور پریس ظلم کے کم کرنے میں مدد دیتا ہے تو یہ میرے بس کی بات نہیں ۔ میں نے خدا سے یہ نہیں کہا تھا کہ میرے اتنے بیٹے کر دے تب یکیں ابراہیم کی طرح قربانی کروں گا۔ یا پریس جاری کر دے تب میں قربانی کروں گا۔ یہ خدا کا فعل ہے۔ میرا فعل نہیں۔ پس جو فرق ہے وہ غذائی فعل کے نتیجہ میں ہے ۔ میری خواہش کے نتیجہ میں نہیں ۔ یہ سوال کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں کیا کرتا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میرا دل تو سہی کہتا ہے کہ میں اس وقت بھی ابراہیم کی نقل ہی کرتا ۔ لیکن بہر حال موجودہ حالات نے میری قربانی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام م کی قربانی میں میں ایک بہت بہت بڑا فرق پیدا پیدا کر دیا دیا ہے۔ پھر اب ایک اور وادی غیر ذی زرع اس رنگ میں بھی ہمارے سامنے ہے کہ ہم مرکز سلمہ کے لئے ایک نئی بستی اسی قسم کے مقام پر عبا رہے ہیں یہستی بھی اسی لئے بسائی جارہی ہے کہ بد ماحول اور بُرے خیالات سے الگ ہو کر ہماری جماعت کے افراد دین کی تعلیم میں حاصل کریں اور پھر اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں۔ یہ ایک چھوٹی قربانی ہے جس کے ذریعہ جماعت کے افراد اپنے اخلاص کا ثبوت دے سکتے ہیں اور دیں گے مگر عملاً وہی ثبوت دیں گے جو اس بات کو مد نظر رکھیں گے کہ ہمارا اس وادی غیر ذی زرع میں رہنا صرف اس غرض کے لئے ہے کہ ہم دین کی اشاعت کریں۔ اس کے بغیر اگر وہاں رہیں گے تو انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ بہر حال میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ کوئی قومی ترقی بغیر اولاد کی