خطبات محمود (جلد 2) — Page 252
۲۵۲ کرے تاکہ خدا تعالے کی بقاء دنیا سے مٹ نہ جائے۔ لقاء الہی ایک نہایت ہی قیمتی چیز ہے اور دنیا میں قیمتی چیزوں کے متعلق یہ دستور ہے کہ ان کی حفاظت کا زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے چنانچہ دیکھ لو جب تمہارے پاس کوئی اچھی چیز ہوتی ہے تو تم اس کے متعلق کیا کرتے ہو تم ہی کرتے ہو کہ اس کو حفاظت رکھنے کے لئے برتن تیار کرتے ہو جن لوگوں کے گھر گائے یا بھینس ہوتی ہے ان کے متعلق بالعموم یہ دیکھا جاتا ہے کہ جب بھینس بچہ جننے والی ہو تو وہ بچہ جننے سے پہلے ہی برتن تیار کرنے شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی برتن دودھ دوہنے کے لئے تیار کرتے ہیں کوئی دودھ گرم کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں کوئی دودھ جمانے کے لئے تیار کرتے ہیں، کوئی لستی بنانے کے لئے تیار کرتے ہیں اور کوئی مکھن اور گھی رکھنے کے لئے تیار کرتے ہیں تا کہ گا۔ کے یا بھینس جب دودھ دے تو اس وقت دقت پیش نہ آئے ۔ اسی طرح اگر کسی کو لقاء الہی میسر آتی ہے۔ تو اس کا بھی فرض ہوتا ہے۔ کہ وہ لقاء الہی کو محفوظ رکھتے کے لئے برتن تیار کرے اور نقاد النی کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ اولاد کی قربانی ہے۔ جب کوئی شخص اللہ تعالے کے دین کے لئے اپنی اولاد کی قربانی کرتا ہے تو وہ عرفان کا دودھ اپنی ایک نسل کے لئے محفوظ کر دیتا ہے اور جب اس کی نسل کو عرفان ملتا ہے اور وہ بھی اپنی اولاد کی قربانی کرتی ہے تو عرفان کا دودھ اگلی نسل میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جب تک لوگ اپنی اولاد کی قربانی کرتے چلے جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا عرفان ان کے دلوں میں محفوظ رہتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ ہمیں یہ نسخہ بتایا ہے کہ جب تمہیں خدا ملے اور اس کا قرب حاصل ہو جائے تو اس رحمت اور برکت کو آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہوتا ہے اور وہ یہ کہ تم اللہ تعالے کے لئے اپنی اولادوں کو قربان کر دو تب اس کی رحمت کا دودھ بعد کی نسل کے لئے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اور اگر اللہ تعالی اس کرده اولاد کو بھی عقل دیتا ہے اور وہ بھی اپنی اولاد کی قربانی پیش کر دیتا ہے تو اس سے اگلی نسل میں بھی یہ رحمت اور فضل کا دودھ محفوظ ہو جاتا ہے۔ غرض جب تک نسلیں اپنی اولاد کی قربانی کرتی رہیں گی ، دین اور عرفان ان میں محفوظ رہے گا۔ یہ اولاد کی قربانی دو طرح ہوتی ہے ظاہری رنگ میں تو اس طرح کہ اپنی اولاد کی اعلیٰ تربیت کی جائے۔ ان میں دین کی محبت اور اس سے رغبت پیدا کی جائے اور انہیں علم دین سے واقف کیا جائے۔ مگر اس کے علاوہ اولاد کی ایک خاص قربانی بھی ہوتی ہے۔ اور وہ یہ کہ انسان اپنی اولاد کو اللہ تعالے کے دین کی خدمت کیلئے وقف کر دے ۔ تا کہ جب تک وہ زندہ رہے اسلام کی خدمت کرتی رہے ۔ قربانی کے یہ دونوں رنگ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں پائے جاتے ہیں۔ اور اس وقت ایک ہماری جماعت ہی ایسی ہے جس میں خدا تعالے نے وقف زندگی :