خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 251

۲۵۱ کی شان ہے کہ دنیا میں ظاہر ہوا ۔ اسی طرح کسی نے نوح کا جلوہ دکھا یا کسی نے موسی کا جلوہ دکھایا کسی نے صالح کا جلوہ دکھایا ۔ کسی نے شعیب کا جلوہ دکھایا ، کسی نے زکریا کا جلوہ دکھایا اور کسی نے سینے کا جلوہ دکھایا۔ غرض ہر رنگ کے لوگ آپ کی جماعت میں ہوئے۔ اور ہرنی کی شان کا جلوہ دکھانے والے لوگ خدا تعالے نے آپ کی امت میں پیدا کر دیئے۔ تو اللہ تعالی نے اس دن جب حضرت اسمعیل علیہ السلام کو مکہ میں بھیجا تو در حقیقت یہ تیاری تھی رسل کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آمد کی۔ خدا تعالٰے نے انہیں کہا کہ تم ہمارا گھر تیار کرو۔ کیونکہ ہمارا محبوب اور ہمارا آخری شرعی رسول دنیا میں نازل ہونے والا ہے ۔ تم آج سے ہی ہمارے محبوب کی آمد کی تیاری میں مشغول ہو جاؤ ۔ اور آج سے ہی ایسی اولاد پیدا کر و جو ہیرے محبوب کو ابوبکہ دے ، ہو میرے محبوب کو عمر دے ، جو میرے محبوب کو عثمان دے ، جو میرے محبوب کو عملی رہے۔ جو میرے محبوب کو طلحہ، نہ میر حمزہ اور عباس دے اور اسی طرح کے سینکڑوں صحابہ اس کے حضور بطور نذری پشین کرے ہیں در کشی کرتے رہیں تو تھا اس کد ها و با ظاهری i اور معنوں میں تو مکہ والوں نے حضرت اسمعیل علیہ السلامہ کے بعد دین کا کوئی اچھا نمونہ نہیں دکھایا۔ ہاں چونکہ اس پیشگوئی کا ظہور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ سے شروع ہونا تھا ، اس لئے خدا تعالیٰ نے حضرت آ نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو مکہ میں لاکھ رکھا تا کہ وہ ایسی اولاد تیار کریں ام بو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دین کی خدمت کرے اور اپنے آپ کو خدا تعالے کے جلال کے اظہار کے لئے وقف کر دے۔ میں نے خطبہ کے شروع میں یہ ذکر کیا تھا کہ یہ عید جوج کے قریب رکھی گئی ہے ۔ اس میں توقیت اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالے کا قرب جب کسی قوم کو نصیب ہو جائے تو اس کا فون لله ہے کہ وہ اپنی اولاد کی قربانی کرے ۔ حج کیا ہے؟ خدا تعالے کی رویت اور اس کا دی؟ ر اس کا دیدار - چنانچہ خواب میں اگر کوئی شخص اپنے متعلق دیکھے کہ اس نے حج کیا ہے تو اس کی تعبیر یہ ہوتی ہے کہ اس کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ اور انسان کی زندگی کا بڑا مقصد خدا تعالے کی عبادت اور اس کا قرب حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ جیسے وہ فرماتا ہے ۔ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ کہ میں نے بنی نوع انسان کو اپنا مقرب بنانے کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور حج اس بات کی علامت ہے کہ جس مرض کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے وہ اس نے پوری کرلی اور وہ غرض حبیبیا کہ میں بتا چکا ہوں لقاء الہی ہے۔ پس حج کے ساتھ عبد الماصحیہ کی تقریب رکھ کہ خدا تعالے نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جب کسی قوم کو لقاء الہی نصیب ہو جائے تو اس کا دوسرا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کی قربانی