خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 235

۲۳۵ گندہ اور ذلیل وجود ہوں کہ میرے آباد کا شرف اور ان کی عورت مجھے کوئی نفع نہیں دے سکتی۔ بلکہ ان کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا ان کی تنگ کرنا ہے اور اس نسبت سے مجھے کوئی عزت محال نہیں ہوتی بلکہ میری ذلت بڑھ جاتی ہے کہ غربت کا سامان موجود ہوتے رتے ہوئے میں نے ذلت کو اپنے لئے قبول کر لیا ۔ یہی مثال دوسرے اخلاق کی بھی ہے۔ خواہ وہ دین کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں یا سیاست کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں یا اقتصادیات کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں یا صنعت و حرفت کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں یا تجارت کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے عزیتی دوشم کی ہیں اور ان کے مقابلے میں خوشیاں بھی دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ جو ذاتی ہوتی ہیں اور ایک خوشی وہ جو ورثہ میں ملتی ہے۔ ذاتی خوشی تو ہر حال خوشی ہوتی ہے مگر جو خدمتی ورثہ میں ملتی ہے وہ مقید ہوتی ہے۔ جب تک اس کے ساتھ ذاتی خوشی شامل نہ ہو۔ وہ کار آمد نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات ذلت اور رسوائی کا موجب ہو جاتی ہے انسانی فطرت کے اس مطالعہ کے بعد اب ہمیں اپنی دونوں عیدوں پر غور کرنا چاہئیے کہ وہ نہیں کیا سبق دیتی ہیں کہ جب ہم ان دو عیدوں کو چین میں سے ایک ہمارے ملک میں چھوٹی عید کہلاتی ہے اور دوسری بڑی عید کہلاتی ہے ۔ دیکھتے ہیں تو نہیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام جو اپنی تعلیمات میں مقام ضروری احکام پر مشتمل ہے اور تمام اچھے عناصر پہ حاوی ہے ۔ اس نے فطرت کے اس تقاضا کو بھی ان دونوں عیدوں کے ذریعہ سے ظاہر کیا ہے۔ مثلاً چھوٹی عید کو دیکھو۔ اس عید سے پہلے ہم۔ وزے رکھتے ہیں۔ خدا تعالے کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے بعد ہم ایک دن عید مناتے ہیں ۔ وہ عید کسی گذشتہ عزت کی یاد نہیں ہوتی۔ ہمارے باپ دادا کے کسی مشرف کو ظاہر میں کرتی بلکہ اس کا واحد مقصد یہی ہوتا ہے کہ ہم نے خود اپنی ذات میں قربانی اور ایثار کا ثبوت مہیا کیا ہوتا ہے اور اپنی قربانی کے ساتھے اپنے رب کو خوش کیا ہوتا ہے۔ پھر دوسری عید کو بہ لیتے ہیں جو بڑی عید کہلاتی ہے ۔ اس عید کے دن یا اس سے پہلے ہم نے اپنی ذات میں کوئی کام نہیں کیا ہوتا ۔ کوئی خاص عبادت ہم نے نہیں کی ہوتی۔ کوئی خاص تکلیف ہم نے نہیں اٹھائی ہوتی ۔ عام دنوں کی طرح ایک دن ہوتا ہے اور ہم اس دن یکدم عید کا اعلان کرتے ہیں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ہزاروں سال پہلے اس دن ہمارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ایک عظیم الشان کام صادر ہوا تھا اور اسے ایک خوشی پہنچی تھی اور چونکہ وہ ہمارا روحانی باپ تھا اور ہمارے روحانی باپ کا باپ تھا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمہ کا ہم اس دن فورا نئے کپڑے پہن کر یا دھنتے ہوئے حمات کپڑے بدن کے گروہ در گروہ اور جماعت در جماعت اکیلے اکیلے اور اکٹھے ہو کہ میدان کی طرف جانا شروع کر دیتے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک کا دل خوش ہوتا ہے۔ اس لئے