خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 234

۲۲۴ وه سے سوال کیا کیا کہ یا رسول الله اعربوں میں سے کونسے لوگ زیادہ معزز ہیں ۔ تو آپ نے فرمایا عربوب سے جو خاندان جاہلیت میں زیادہ درجہ رکھتے تھے وہی اسلام میں بھی زیادہ درجہ دیکھیں گے بشر طیکہ خود بھی متقی ہوں ۔ اس میں بھی آپ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے۔ کہ اپنے آباد کے کاموں پر فخر کرنا یا ان کی عدت میں اپنے آپ کو شریک سمجھنا ایک فطری تقاضا ہے جس سے اسلام کے اسلام روک نہیں سکتا وہ صرف اتنی پابندی لگاتا ہے کہ تم اپنے اندر ذا تی شرت بھی پیدا کرو تا کہ اپنے آباد کی غربت کی خوشی پر خوشی منا کر تم منافق مت ہوا اور جس چیز کو ایک وقت میں عزت کا موجب قرار دو، دوسرے وقت میں اسے حقیر قرار دے کرہ اور متروک کر کے اس سے بیزاری کا اظہار نہ کر و ۔ کیو نے جب کوئی شخص ایک شرف کو حاصل کرنے سے اجتناب کرتا ہے۔ یا غفلت برتتا ہے تو وہ اپنے فعل سے ثابت کر دیتا ہے کہ وہ اسے شرف نہیں سمجھتا ۔ پس کسی دیانت دار انسان کا حق نہیں کہ وہ بعض افعال کو تحقیر کے ساتھ ترک کر دے اور پھر انہی افعال کی وجہ سے اپنے باپ دادا کی عزت کا اعلان کرے۔ ۔ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں فلاں دادا کی اولاد ہوئی جو بڑا اور خود بزدلی دکھاتا ہے میں سے ر بڑا بہادر تھا اور خو سم اور یا کے - تو وہ در حقیقت دو اضداد کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ وہ نقیضین کو ایک جگہ جمع کرتا ہے کیونکہ ایک طرف تو وہ اس بات پر فخر کرتا ہے کہ میرا دادا بہادر آدمی تھا ۔ اور دوسری طرف وہ قربانی سے گریز کرتا ہے اس کا یہ فعل بتاتا ہے کہ دو باتوں سے ایک بات ضرور ہے بات ضرور ہے یا تو وہ جب جب اپنے دادا کے افعال پر فخر کرتا ہے تو وہ دوسروں کو بیوقوف بناتا ہے ۔ ورنہ اپنے دل میں اپنے دادا کو معزز نہیں سمجھتا بلکہ ایک بیوقوف انسان سمجھتا ہے جو اپنی کوخو جان کو خواہ مخواہ بلا ضرورت ! ت اور بلا اوجہ خطرات میں ڈال دیا کرتا تھا۔ اور یا پھر وہ اس - افعال کو تو اچھا سمجھتا ہے لیکن اپنے آپ کو ایک پاجی اور ذلیل انسان سمجھتا ہے جو شرافت کے احساسات سے عاری ہے اور اتنے گندے وجود پر شرف کا جبہ پہنانا بالکل احمقانہ بات ہے ۔ غرض یہ دونوں باتیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔ اگر تو ایسے شخص کے آباد جو خود بزدل ہے بوجہ بہادری اور جرات دکھانے کے مکرم اور معزز ہو گئے تھے تو اگر یہ قربانی کرنے کے لئے تیار نہیں تو ان کی عزت اور ان کا شرف اسے کوئی نفع نہیں دے سکتا ۔ اور اگر خطرہ سے جان بچانا ہی عورت ہے اور یہی عقل ہے اور یہی مناسب ہے تو پھر یہ کہنا کہ اس کے آباء مکرم اور معزز تھے یہ جھوٹ اور دھوکہ ہے کیونکہ اگر قربانی سے بچنا عقلمندی ہے تو پھر جن لوگوں نے قربانی کی وہ جاہل اور نادان تھے اور ہر گز کسی عورت کے مستحق نہ تھے۔ پس ایسے شخص کے لئے دو طریق میں سے ایک کو اختیار کرنا لازمی ہوگا ۔ یا تو اسے یہ کہنا پڑے گا کہ میرے آباء ہو تو وہ اور احمق تھے اور کیسی شرف کے مستحق نہیں تھے۔ اور یا پھر اسے یہ کہنا پڑے گا کہ میں ایسا