خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 185

۱۸۵ اس موقع پر میں پھر اعلان کرتا ہوں کہ سب دوست جو ان مشکلات کو دور کرنا چاہتے ہیں اس لئے نہیں کہ ہم ان سے ڈرتے ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ دین کی اشاعت میں روک پیدا کر رہی ہیں وہ وہ آئندہ سات مفتوں تک ہر جمعرات کو روزہ رکھیں تا اللہ تعالیٰ ان مشکلات کے اس حصہ کو جو دین کی اشاعت کے رستہ میں روک ہے خواہ وہ افسروں کی طرف سے ہے یار عایا کی طرف سے دور کر دے جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ دعا بکثرت پڑھنی چاہئیے ۔ اللهم إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِ هم یا اے اللہ جو ہم پر حملہ کرے تا سلسلہ کو نقصان پہنچائے خواہ افسروں میں سے ہو یا رعایا میں سے تو اس کے مقابل پر ہماری طرف سے تلوار چلا اور ہمیں ان کے شرور سے محفوظ رکھے ۔ یہ بہت سمجھو کہ یہ کوئی معمولی سی دعا ہے اور تم بغیر ہتھیاروں کے ہو۔ یہ دعا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لکھائی ہے کہ جب کوئی قوم تم پر حملہ آور ہو تو یہ دعا کر وہ خدا اسے تباہ کر دے گا۔ اگر یہ دعا سچے دل سے کروگے تو اس کے ایسے اثرات دیکھو گے جو دنیا کے لئے عبرت کا موجب ہوں گے۔ شه لئے اور پھر ایک اور دعا ہے جو حضر ا ہے جو حضرت مسیح موعود موعود علیہ السلام کو اللہ تعال نے سکھائی اور و گئے فرمایا کہ یہ اسم اعظم ہے جو دنیا کی شرارتوں سے محفوظ رکھتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ربّ كُلُّ شَیء خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَالْعُرْنِي وَارْحَمْنِي اس اس کو بھی کثرت سے پڑھوا اخلاص سے پڑھو کہ یہ بھی اس زمانہ کے آفات سے محفوظ رہنے کے لئے ہے۔ اگر یہ دعائیں پڑھتے رہو گے تو دشمن خواہ افسروں میں سے ہوں یا رعایا میں سے۔ خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے یا تو ہدایت پا جائیں گے یا پھر اللہ تعالے ان کو ایسی عبرت انگیز سزائیں دے گا کہ وہ محسوس کریں گے کہ ہم نے اس کے بندوں کو دکھ دے کر اس کے خضب کے اپنے اوپر بھڑ کا لیا ہے میں نے کبھی کسی کے لئے بد دعا نہیں کی اور نہ ہی اب کرنے کو تیار ہوں ۔ مگر اب جو مشکلات دین کی اشاعت کے راستہ میں پیدا ہو رہی ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ضرور کہوں گا کہ خدا کرے یا تو یہ لوگ سمجھ جائیں اور اگر ان کے دلوں پر از لی شقاوت کی مہر لگ چکی ہے تو اللہ تعالئے ان کے ہاتھوں کو پکڑے تا دنیا کو معلوم ہو جائے کہ خدا کے سلسلہ پر ہاتھ اٹھانا خود خدا پر ہاتھ اٹھانا ہے " والفضل ۳ ر ا پریل ۱۹۳۵ مد تا به مت