خطبات محمود (جلد 2) — Page 153
۱۵۳ ماتحت اپنے بھائیوں اور عزیزوں سے یہ جدائی اختیار کرے گا وہ اپنے بھائیوں کی تلواروں کے سایہ میں چلے گا اور کوئی طاقت اسے مٹا نہیں سکے گی۔ نادان ہے وہ جو سمجھتا ہے کہ دشمنوں کی دشمنی اسے مٹادے گی۔ نادان ہے وہ جو خیال کرتا ہے کہ اب جبکہ ان کے جنازے الگ ، ان کی شادیاں علیحدہ اور ان کی نمازیں جدا ہو گئیں تو یہ جمہور سے علیحدگی اختیار کر کے کامیابی حاصل کریں گے ۔ خدا فرماتا ہے کہ اگر وہ خدا کے لئے یہ موت قبول کرنے کے لئے تیار ہو گئے تو وہ ایک نیکی کا ایک بیج ہیں جو کبھی منا ئع نہیں ہوگا ۔ بلکہ بڑھے گا اور پھو لیگا اور شہر خص جو اسے اکھاڑ نا چاہے گا اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اسے بربا برباد کر دے گا۔ کیا حضرت ابر استیم نعوذ بالله نادان تھے جنہوں نے اپنے بیٹے کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑا ۔ پھر کیوں انہوں نے ایسا کیا ؟ یا کیا خدا ان کا دشمن تھا جو کہہ دیا کہ جاؤ اور اس وادی میں بیوی بچہ کو چھوڑ آؤ ۔ در اصل خدا اس طرح یہ نشان قائم کرنا چاہتا تھا کہ ایمان کی ترقی کے لئے پہلے موت برداشت کرو ۔ اگر تم موت برداشت کرنے کے لئے تیار ہو۔ اگر تم لوگوں کی دشمنی برداشت کرنے کے لئے تیار ہو تو پھر ضروری ہے کہ تمہاری نیکی کے بیج کو محفوظ رکھا جائے اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ خراب زمین سے اسے علیحدہ کر لیا جائے ۔ ایک بڑے درخت کے نیچے چھوٹا پورا کبھی پنپ نہیں سکتا ۔ اسی طرح جب مامورین آتے ہیں تو ابتداء میں ان کی جماعت تھوڑی ہوتی ہے ۔ وہ گفتی کے افراد دشمنوں کے نرغہ میں گھرے ہوتے ہیں۔ تب ضروری ہوتا ہے کہ انہیں دوسروں سے علیحدہ رکھا جائے مخالفوں سے جدا کیا جائے تا وہ اپنے اخلاص اور محبت کے پیج کو نشو و نما دے سکیں ۔ اگر یہ جدائی نہ ہو تو لا محالہ آپس میں تعلقات رکھنے پڑیں گے ۔ اور اس طرح ہر وقت نقصان پہنچنے کا احتمال رہے گا۔ پس خدا ایک وقت بظاہر بگاره پیدا کرتا ہے اور جدائی پیدا کر کے موقع دیتا ہے کہ مامور کے ماننے والے بڑھ جائیں ۔ نہیں دشمن سے جدائی خرابی نہیں بلکہ اللہ تعالے کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے۔ عرض یہ عید ہمارے لیئے ایک سبق رکھتی ہے ۔ یہ سبق کہ جو خدا تعالے کے لئے ہو جاتا ہے وہ کبھی تباہ نہیں ہوتا۔ یہ سبق رکھتی ہے کہ جو شخص قربانی کرے اسے ہمیشہ ترقیات نصیب ہوتی ہیں۔ یہ سبق رکھتی ہے کہ جو جماعت ترقی کرنا چاہے اسے غیروں سے علیحدگی اختیار کرنی چاہیے جب تک وہ جماعت وادی غیر ذی زرع میں رہنے کے لئے تیار نہ ہو ، اس وقت تک اسے خروج بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ حضرت مسیح ناصری نے بھی یہی کہا کہ یہ نہ سمجھو کہ یکی زمین پر صلح کرانے آیا۔ صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلانے آیا ہوں کیونکہ میں اس لئے آیا ہوں کہ آدمی کو اس کے باپ سے اور بیٹی کو اس کی ماں سے اور بہو کو اس کی ساس سے جدا کر دوں اور آدمی