خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 152

١٥٢ علم تھا کیونکہ رکھی۔ اور کسی تعلیم کی بنیاد حضرت ابراہیم نے رکھی۔ اور اس میں بھی شبہ نہیں کہ ہرنبی مسلم تھا جو فرمانبردار ہے وہ مسلم ہے اور جو منکر ہے وہ کافری وہ کافر مگر مسلم و کا فرمیں امتیاز اور نیکی کے بیج کے متعلق یہ محسوس کر ا دینا کہ وہ بعض دفعہ کفر کے بیج کے نیچے آکر خراب ہو جاتا ہے، یہ بات حضرت ابراہیم علیہ السلام سلام کے کے زمانہ زیا میں ہی قائم قائم ہوئی ہوئی اور اور یہی چیز ہے جس کے متعلق فرمایا ۔ ھو سما تاکیم کیم المسلمين ، ورنہ قرآن مجید کے بتلائے ہوئے اصل کے ماتحت حضرت آدم حضرت نوح ، حضرت داود - حضرت سلیمان اور حضرت عیسی علیهم السلام سب مسلم تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خصوصیت اس لئے دی گئی کہ آپ کے ذریعہ بنایا گیا ہے کہ آئندہ اسلام کو کفر سے جدار بنا پڑیگا ۔ ہدایت کو ضلالت سے علیحدگی اختیار کرنی پڑے گی ، اور نہ اور کوئی صورت اشاعت ہدایت کی نہیں ہوگی ۔ یہ معمولی بات نہیں کہ کوئی شخص کھڑا ہو کر کہہ دے کہ تم الگ اور میں الگ تمہاری نمازیں الگ اور ہماری الگ ، تمہاری شادیاں الگ اور ہماری الگ تمہارے جنازے الگ اور ہمارے الگ ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دنیا کی تلواریں وہ اپنے خلاف کھڑی کرے اور یہی چیز ہے جس کے ما تحت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق بائیبل میں کہا گیا کہ وہ اپنے بھائیوں کی تلواروں کے بیچے پلے گا ۔ یعنی دنیا میں جب وہ یہ اعلان کرے گا کہ میں کفر و اسلام میں امتیازت تم کرتا ہوں۔ میں کفر کو جدا اور اسلام کو جدا کرتا ہوں تو اس کے بھائی اس پیر اعتراض کریں گے وہ اس سے جدا ہو جائیں گے اس کی مخالفت میں متحد ہو جائیں گے تب اس پر اپنے بھائیوں کی تلواریں اٹھیں گی ، مگر خدا فرماتا ہے کہ وہ تلواریں سجائے اسے مٹانے کے اس کے نشو و ارتقاء کا موجب ہو جائیں گی۔ پس حضرت ابراہیم نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو دوسروں سے علیحدہ بسا کر اسلام اور کفر میں ایک امتیاز تا کم کر دیا ۔ اور آئندہ کے لئے یہ قانون بنا دیا کہ جو بھی مامور آئے اس کے ماننے والوں کو اس کے منکروں سے علیحدہ رہنا پڑے گا۔ وہ علیحدگی بظاہر موت ہوگی، اور یوں معلوم ہوگا کہ وہ ایک وادی غیر ذی زرع میں پھینکے گئے۔ جب باپ بیٹے کو چھوڑ دیگا اور بیٹا باپ کو چھوڑ دے گا ۔ بیوی خاوند کو چھوڑ دے گی اور خاوند بیوی کو چھوڑ دیگا ۔ بھائی بہن کو چھوڑ دیگا اور بہن بھائی کو چھوڑ دے گی ۔ ماں بچے کو چھوڑ دے گی اور سچہ ماں کو چھوڑ دے گا ۔ اس وقت یوں معلوم ہوگا کہ باوجود دنیا میں رہنے کے وہ دنیا سے علیحدہ ہو گئے ۔ وہ ایک وادی غیر ذی زرع میں چلے گئے ۔ ایسے وقت میں جب نامور کے ماننے والے منکروں سے علیحدگی اختیار کریں گے تو ان کے بھائیوں کی تلواریں ان پر اُٹھیں گی ۔ وہ تلواریں انہیں بلاک کرنا چاہیں گی تباہ و برباد کرنا چاہیں گی ، مگر خدا فرماتا ہے کہ وہ جو خدا کے حکم کے