خطبات محمود (جلد 2) — Page 150
۱۵۰ ایت بھی تھیں اور بیرونی بھی۔ اندرونی یہ اندرونی یہ کہ آپ کے رشتہ دار کا دار تک آپ کے مخالف تھے اور بیرونی یہ کہ اس زمانہ کی سیاست اور حکومت آپ کی مخالف تھی ۔ سوائے ان کے ایک رشتہ دار کے جو ان کا خالہ زاد بھائی تھا۔ یا بعض کہتے ہیں کہ وہ بھتیجا تھا اور کوئی ان پر ایمان نہ لایا تھا۔ اور اس قدر تکلیفیں دی گئیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح انہیں بھی ہجرت کرنی پڑی مگر با وجود اس کے ان کے ایمان کی حالت : ان کے ایمان کی حالت یہ تھی کہ انہوں نے کبھی یہ کو قبول نہیں کرے گی بلکہ ان کے بھائی حضرت لوطہ جو دوسری بستی میں تھے جب ان کے منکریوں پر عذاب آیا تو بائیبل میں لکھا ہے حضرت ابراہیم نے دعا کرنی شروع کی کہ خدایا! کیا تو اس قوم کو تباہ کردے گا جبکہ تیرے نیک بندے بھی اس میں رہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں مگر وہ بستی تو گنا ہوں سے پر ہو گئی۔ تب حضرت ابراہیم نے کہا۔ بے شک مگر اسے خدا ! اگر اس میں سو نمومن ہوں گے تو کیا تو ان پر نظر نہیں کرے گا اور کیا ان کی وجہ سے باقیوں کو بھی نہیں بچائے گا اللہ تعالی نے فرمایا ۔ اسے ابراہیم ! اگر اس میں سومومن ہوں تو میں ان کی وجہ سے سب کو نیچا نونگا مگر وہاں تو اس قدر بھی نہیں۔ تب ابراہیم نے کہا اے خدا ! اگر اس میں نو سے مومن رہتے ہوں تو کیا محض اس لئے کہ دس مومن کم ہیں تو سب کو تباہ کر دے گا۔ اللہ تعالے نے کہا نہیں اگر فقتے مومن بھی ہوں گے تب بھی میں ان سب کو بچا لونگا ۔ تب حضرت ابراہیم نے یہ سمجھ کر کہ وہاں نوے فون سب کو بھی نہیں کہا اے خدا ! اگر وہاں انشی مومن ہوں تو کیا اسی مومنوں کی تو قدر نہیں کریگا اور ایسی بستی کو ہلاک کر دے گا ۔ خدا نے کہا : اگر وہاں اسی مومن بھی ہوں تب بھی میں بستی کو ہلاکت سے بچا لونگا۔ یہانتک کہ ہوتے ہوتے آخر حضرت ابراہیم دس تک آگئے اور کہا۔ اسے خدا اگر وہاں دس مومن ہوں تو کیا یہ کم ہیں ۔ اور کیا ان کی وجہ سے تو باقیوں کو ہلاکت سے نہیں بچائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیوں نہیں۔ اگر وہاں دس مومن بھی ہوں تب بھی وہ نیکی کا پہنچ ہوں گے اور اس بستی کی ترقی کی امید ہو سکتی ہے ۔ مگر وہاں تو دس مومن بھی نہیں ۔ تب حضرت ابراہیم خاموش ہو گئے اور انہوں نے حضرت لوط اور ان کے خاندان کے لئے دعا کی اور وہ بچائے نیا ئے گئے ہیں اس سے ان کے ایمان کا پتہ چلتا ہے۔ مشرکوں نے انہیں رکھ دیا عزیز رشتہ داری T سے انہیں جدا ہونا پڑا ، آگ میں انہیں ڈالا گیا ، وطن سے بے وطن ہونا پڑا اور سینکڑوں مسل الله دور جا کر انہیں رہنا پڑائی تو پھر بھی بنی نوع انسان سے شفقت ان کے دل میں اتنی تھی کہ اپنی اپنی قوم نہیں بلکہ ایک اور قوم کی تباہی کا حکم آتا ہے اور آپ وہاں بھی شفاعت کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ دراصل حضرت ابراہیم کا دل اس یقین سے پر تھا کہ جو تعلیم انہیں دی گئی ہے وہ اختر