خطبات محمود (جلد 2) — Page 149
۱۳۹ شکایت کی کہ یہ ہمارے گا یک خراب کرتا ہے اور چچا نے ابر اسمہ کو خوب مار اللہ پرانی تاریخیں کوئی ایسی محفوظ نہیں اس لئے ہم نہیں کہ سکتے کہ اس واقعہ میں کہاں ہے تک صداقت پائی جاتی ہے۔ لیکن یہودی تاریخیں یہی بیان کرتی ہیں اور تعجب نہیں کہ یہ واقعہ صحیح ہو ۔ اور بغیر کسی قسم کی آمیزش کے ہو ۔ ہر حال معلوم ہوتا ہے کہ یہودی قوم میں اس قوم میں جو ابر اہیم کی نسل سے چلی، یہ بات مسلمہ ہے کہ ابراہیم کو بچپن سے ہی شرک کے خلاف جذبہ عطا راهیمی کیا گیا تھا پیشتر اس کے کہ آپ نہیں ہوتے پیشتر اس کے کہ آپ وحی الہی سے برکت دیئے جاتے اور پیشتر اس کے کہ آپ اللہ تعالے کی طرف سے ہدایت پاتے آپ کا نفس ہی ان باتوں سے متنفر رتھا۔ اور دراصل ہر نبی با خدا خدا تھا۔ تعالے کی اسی قسم سم کی برکت پایا کرتا ہے۔ ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت سے قبل زندگی کا بھی ایک واقعہ تاریخوں میں بیان ہوا ہے۔ زید ایک شخص تھے حضرت عمر کے رشتہ دار انہیں شرک کے خلاف توحید کے خیالات یہود سے سننے کا موقعہ ملا تھا اور وہ موحد ہو گئے تھے وہ جہاں جہاں جاتے توحید کی تائید میں لیکچر دیتے ایک وفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں بھی آئے اور جب ان کے سامنے کھانا رکھا گیا تو انہوں نے کہا میں شرک کرنے والوں کا کھانا نہیں کھا یا کرنا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا میں نے کبھی شرک نہیں کیا جس سے معلوم ہوتا لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی نبوت سے پہلے بر قسم کے مشرکانہ باتوں سے محفوظ اور اللہ تعالے کی حفاظت میں تھے۔ بغیر حضرت ابراہیم جن کا ئیں واقعہ بیان کر رہا ہوں بچپن سے ہی توحید کے مؤید اور شرک کے مخالف تھے۔ مگر ایسی قوم میں پیدا ہو کر جو رات دن شرک میں مبتلا رہتی اور ایسی قوم کے حالات اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ان کی اصلاح نہیں ہو سکتی کبھی یہ نہیں کہا کہ ان شرک میں مبتلا لوگوں کو بچا یا نہیں جا سکتا ۔ جب انہوں نے شرک کے خلافت اللہ تعالے سے ہدایت پا کر تعلیم دینی شروع کی تو ان کی قوم نے ان کی باتوں کو تسلیم نہ کیا۔ بلکہ طرح طرح کے دکھ نے دیئے۔ آپ کی مخالفت کی بہا تک کہ آگ جلائی اور اس میں آپ کو ڈالا ۔ قرآن کریم سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ میں ان ان کے لئے آگ جلائی گئی اس میں ان کو ان کو پھینکا گیا ۔ اور پھر وہ آگ آپ کے لئے ٹھنڈی کی گئی ۔ ممکن ہے بارش ہو گئی ہو یا اور کوئی ایسے سامان پیدا ہو گئے ہوں ۔ غرض انتہائی تکالیف کے ذریعہ آپ کو توحید سے روکنے کی کوشش کی گئی ۔ مگر آپ نے کبھی یہ خیال نہ کیا کہ یہ دکھ دینے والے کہاں ہدایت پا سکتے ہیں، چلو ان کو چھوڑو ۔ 100 پیس ابرا ہیمر کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مومن کو کبھی مایوس نہیں ہونا چا ہیئے اورہ رت کبھی یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ لوگوں کو ہدایت کی رح اورکیو کی یوگی حضرت ابراہیم کے لئے اندرونی مشکلات