خطبات محمود (جلد 2) — Page 122
۱۲۲ میں اپنی اور اپنے بچہ کی قربانی کو قبول کیا ۔ اللہ تعالے ان کی آزمائش کرنا چاہتا تھا ۔ پانی اور کھجوریں ختم ہو گئیں ۔ نزدیک نہ کوئی بستی تھی اور نہ ہی ادھر سے کسی قافلے کے گزرنے کا امکان تھا۔ حضرت اسمعیل بچے تھے ، کوئی آٹھ برس کی عمر ہو گی ، پیاس کے مارے تڑپنے لگے ۔ حضرت باجرہ سے اپنے لخت جگر کی یہ حالت نہ دیکھی گئی اور بیقرار ہو کر صفا و مروہ پہاڑیوں پر دوڑ نے لگیں کبھی ایک پر چڑھ جاتیں اور کبھی دوسری پہ چڑھ کر دیکھنے لگتیں کہ شائد کوئی قافلہ آرہا ہو لیکن کوئی نظر نہ آتا ۔ ایک پہاڑی سے اُتر کر دوسری پہ جانے تک چونکہ راستہ میں نیچی جگہ تھی ۔ اور وہاں حضرت اسمعیل نظر نہ آسکتے تھے ۔ اس لئے وہ فاصلہ دوڑ کر طے کر لیتیں ۔ تاکہ اونچی جگہ پر جا کہ بچہ کو بھی دیکھ سکیں ۔ کئی بار متواتر انہوں نے اسی طرح کیا مگر کوئی صورت پانی ملنے کی نظر نہ آئی ۔ آخر جب بہت بے قرار ہو گئیں تو آواز آئی ہاجرہ ! جا اسمعیل کے پاس جا۔ جب وہ حضرت اسمعیل کے پاس آئیں تو دیکھا کہ چشمہ پھوٹا ہوا ہے۔ اس سے انہوں نے پانی پلایا ۔ پانی ملنے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے سامان پیدا ہو گئے کہ عرب کا ایک قافله - استہ بھول کر وہاں آگیا ۔ اس نے پانی پاکر آرام پایا تو حضرت ہاجرہ کو کچھ تحائف دیئے اور پھر اجازت لے کر وہاں ڈیرے ڈال دیئے اور معاہدہ کیا کہ آپ کی رعایا ہو کر یہاں ہینگے لیے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمعیل علیہ السلامہ کو گویا وہاں کا بادشاہ بنا دیا ۔ یہ ہے اصلی واقعہ اور یہ تھا قربانی اور عملی طور پر چھری پھیرنے کا مفہوم ! اور اسی واقعہ کی یادگار میں آج کی عید ہے اور لوگ وہاں جاتے ہیں۔ باقی رہا یہ سوال کہ خدا تعالے نے مزدلفہ ، مئی اور عرفات کو کیوں اس شرف کے لئے چنا ۔ میرا خیال ہے کہ عرفات ساحل سمندر کی طرف ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اس راستہ سے ان کے سے ان کو چھوڑنے کے لئے شام سے آئے ۔ اور لئے شام سے آئے ۔ اور عرفات وہ مقام وعدہ کیا گیا ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی تجلی ظاہر ہوئی ۔ اور مزدلفہ وہ مقام ہے جہاں آپ سے وعدہ کے کہ اس قربانی کے بدلہ میں بہت بلند درجات خطا ہوں گے ۔ مزد گفہ قرب پر دلالت کرتا ہے ۔ اور عرفات عرفان پر ۔ منی وہ مقام ہے جہاں حضرت ہاجرہ گھبرائی ہوئی پہنچیں ، اس جگہ شیطان وہ کو روڑے مارے جاتے ہیں چونکہ آپ گھبرائی ہوئی تھیں ۔ مگر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ خدا کے حکم سے تم کو یہاں چھوڑے جاتا ہوں اور انہوں نے کہا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کبھی منافع نہیں کرے گا تو گو یا شیطان ہمیشہ کے لئے مار دیا گیا ۔ یہ ساری جگہیں قربانی سے تعلق رکھتی ہیں پس آج کے دن در حقیقت ہم اس بات کی یاد تازہ کرتے ہیں کہ حضرت ابراهیم علیہ السلام نے خدا کے لئے اپنے بیٹے کو ذبح کر دیا ۔ لیکن خدا نے اس کو زندہ کیا اور ہمیشہ کیلئے اسے زندہ کر دیا اور دنیا میں اس کا نام روشن کر دیا ۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دنیا میں