خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 121

۱۲۱ دیتا ہے مگر اس کا منشاء وہ نہیں ہوتا ۔ اور خدا تھا۔ ہوتا ۔ اور خدا تعالے جیسی عظیم ہستی کے متعلق یہ خیال کرنا کہ وہ وہ 200 ایک ایسا حکم دے جس کے متعلق وہ خود جانتا ہو کہ اسے پورا نہیں کراؤں کا منشاء احکام خدا وندی کے خلاف ہے ۔ در اصل بات یہ تھی کہ حضرت رت ابراہیم ابراہیم علیہ علیہ السلام السلام کی کی بعثت کے ابتدائی ایام میں جا جب دین دنیا سے مت جا مت چکا تھا اس وقت انسانی قربانی ہوتی تھی ۔ اور انبیاء کا یہ طر ام کا یہ طریق ہے کہ جب تک کسی امر کے متعلق خدا تعالے کی طرف سے حکم نہ آئے وہ قومی دستور کو جاری رکھتے ہیں اور چونکہ اس دقت سے نہ کثرت انسانی قربانی ہوتی تھی اس لئے آپ نے اپنی ڈ یا کا یہی مفہوم سمجھا کہ اسمعیل کو ذبح کر کے قربان کرنا چاہیئے۔ مگر منشاء الہی یہ نہ تھا بلکہ کچھ اور تھا ۔ اور وہ یہ کہ آپ ان کو ایک دن ایک ایسی جگہ چھوڑ آئیں گے جہاں چھوڑ نا موت کے منہ میں دینے کے برابہ ہو گا ۔ چنانچہ حضرت ابراہیم کا یہ خواب اس وقت پورا جب وہ حضرت اسمعیل اور ان کی والدہ کو اس جگہ چھوڑ آئے جہاں مکہ آباد ہوا ۔ اور جہاں آج لوگ اس واقعہ کی یاد تازہ کر رہے ہیں ۔ یہ حضرت ابراہیم کے خواب کا اصل منشاء تھا اور یہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کو ذبح کرنا تھا کہ انہیں ایسی جگہ چھوڑ آئے جہاں ایک مشکیزہ پانی اور تھوڑی سی کھجوروں کے سوا کھانے پینے کا کوئی سامان نہ تھا۔ کئی کئی میل تک کوئی آبادی نہ تھی ۔ ایسی حالت میں چھوڑ آنا سو فیصدی موت کے منہ میں پھینک آنا تھا۔ کون کر سکتا تھا کہ تھوڑا سا کھانا اور پانی ختم ہونے پر کچھ اور میسر آسکے گا۔ پس حضرت ابراهیم علیہ السلام نے انہیں ذبح کرنے میں کوئی دریغ نہیں کیا ۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ خدا نے انہیں پھر زندہ کر دیا ۔ اور واقعہ اس طرح ہوا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فیصلہ کر لیا کہ حضرت اسمعیل اور ان کی والدہ کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ آئیں تو وہ ایک مشکیزہ پانی کا اور کچھ بھجوریں ساتھ لے کر حضرت اسمعیل اور ان کی والدہ کو خدا کے حکم کے ماتحت وہاں چھوڑ گئے لیکن محبت پڑی ر خاوند بیوی کی محبت تو نہیں چھوڑی جا سکتی تھی۔ جب آپ واپس چلے تو مرد مرا کر پیچھے دیکھتے جاتے تھے۔ کیونکہ آپ بخوبی جانتے تھے کہ اس پانی اور ان کھجوروں کے ختم ہونے کے بعد ان کی بیوی اور ان کے بچہ کے لئے کھانے پینے کا کوئی سامان نہ ہو گا۔ حضرت ہاجرہ نے جب یہ دیکھا تو خیال کیا ضرور کوئی بات ہے انہوں نے پوچھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں اور ہمیں کہاں چھوڑ جاتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک دردناک موقعہ تھا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے منہ سے بات نہ نکل سکی اور آپ نے تیز تیز چلنا شروع کیا ۔ آخر حضرت ہاجرہ نے دریافت کیا آپ ہمیں نہاں کسی کے حکم سے چھوڑے جاتے ہیں ؟ تب انہوں نے کہا ۔ خدا تعالے کے حکم سے۔ اس پر حضرت ہاجرہ نے کہا۔ اگر خدا کے حکم سے چھوڑے جاتے ہیں تو وہ نہیں صنائع نہیں کرے گا اور خدا تعالے کی راہ