خطبات محمود (جلد 2) — Page 119
119 14 ۳۰۰ امتی ء بمقام باغ حق مسیح موعود علیہ السلام قادیا ) فرموده ۳۰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت تھی اور آپ کا یہ طریق تھا کہ اس عید کے موقعہ پہ آپ نماز جلدی پڑھایا کرتے تھے اور خطبہ بھی مختصر فرماتے تھے سنی تا کہ جن لوگوں نے قربانی کرنی ہو وہ نماز سے فارغ ہو کر یا اگر خطبہ سننا چاہیں تو خطبه سنگر قربانی کر سکیں ۔ ہمارے ملک میں چونکہ اسلامی عادات اور طریق کی بہت کمی ہے اس لئے عام طور پر اس عید اور اس سے پہلی عید کی نمازوں کے وقت میں زیادہ فرق نہیں کیا جاتا ۔ میرا منشاء ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو جاری کیا جائے لیکن اگر میدم تغیر کیا جائے تو خطرہ ہے کہ بہت سے لوگ نماز سے محروم رہ جائیں اس لئے آہستہ آہستہ اس سنت کو جاری کیا جائے اور لوگوں کو عادت ڈالی جاے رہ که اس عید کی تیاری صبح ہی سے شروع کر دیا کریں ۔ اور دقت پر نماز کے لئے پہنچ جایا کریں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانہ میں اس لئے عید کی نمازوں کے متعلق انتظار کیا جاتا تھا کہ یہاں جماعت کم تھی اور باہر سے بہت سے دوست آیا کرتے تھے ۔ ان کے آنے پر عید کی نماز ہوتی تھی۔ لیکن اب حالات متغیر ہو رہے ہیں باہر سے آنے والے دوستوں کی تعدا د نسبتاً کم ہوتی جا رہی ہے۔ اور مقامی دوستوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ارد گرد کے گاؤں کے لوگوں کو شامل کر کے جو عید کی نماز کے لئے قادیان میں آتے ہیں میرے نزدیک یہاں کی تعداد ڈیڑھ دو ہزار کے قریب ہو جاتی ہے۔ اور باہر سے آنے آنے والے دوست ۲۰۱۰ سے زیادہ نہیں ہوئے۔ ہوتے اس طرح یہاں کے اور باہر سے آنیوالے دوستوں میں اس قدر فرق ہو گیا ہے کہ باہر سے آنے والوں کی خاطر ہم اس حکم سے ہمیشہ کے لئے دستبردار نہیں ہوسکتے جس کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد موجود ہے ۔ باہر کے جو دوست نما ز میں شامل ہو سکیں اور خدا تعالے نے اس مقام کو برکت دی ہے اس لئے جس قدر بھی آسکیں آئیں۔ ان کو آئندہ یا تو شام کو یہی یا زیادہ سے زیادہ صبح سویرے یہاں پہنچ جانا چاہیئے ۔ بہر حال اس عید کی نماز کو سنت کے مطابق ادا کرنے کی ہیں آہستہ آہستہ کوشش کرنی چاہیے ۔ اس کے بعد میں اس عید کے ہی ایک حکم کے متعلق مختصرا ایک بات کہنی چاہتا ہوں ۔ یہ عید قربانی کی عید ہے۔ اس موقعہ پر قربانیاں کی جاتی ہیں اور یہ عید یاد گار ہے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے ایک فعل کی ۔ جب انہوں نے خدا کے حکم کے ماتحت اپنے بچے کو قربان کر دیا۔ میں نے جیسا کہ