خطبات محمود (جلد 29) — Page 293
1948ء 293 خطبات محمود (4) زمین نوے سال کے لیے ٹھیکہ پر دی جائے گی لیکن شرح کرا یہ ہر تمہیں سال کے بعد بدلتی رہے گی جو کبھی پچاس فیصدی سے زیادہ نہ ہوگی ۔ (5) زمین پر قبضہ قائم رکھنے کے لیے ہر خریدار سے ایک چھوٹی سی رقم بطور کرایہ وصول کی جائے گی مثلاً ایک روپیہ فی کنال سالانہ اور دس مرلہ پر آٹھ آنے سالانہ۔ اور یہ کرایہ تین پیسے فی مرلہ پر یہ ماہوار بنتا ہے۔ یہ گورنمنٹ کی نقل کی گئی ہے۔ گورنمنٹ بھی پہاڑوں پر زمین ٹھیکہ پر ہی دیتی ہے۔ میں نے بھی ڈلہوزی میں ٹھیکہ پر زمین لے کر کوٹھیاں بنائی تھیں ۔ (6) کسی واحد شخص کو دکان بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دکانیں سلسلہ کی ملکیت ہوں گی۔ ٹھیکہ پر لی ہوئی زمین میں صرف رہائشی مکان بنانے کی اجازت ہوگی کیونکہ بہت سی آوارگی دکانوں کے ذریعہ ہی پھیلتی ہے۔ قادیان میں ہم دیکھتے تھے کہ آوارہ مزاج لوگ عموماً دکانوں پر بیٹھا کرتے تھے اور جب دکانداروں کو اُن کے منع کرنے کے لیے کہا جاتا تھا تو وہ پر مقابلہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے کیونکہ ان کی وجہ سے اُن کی بکری زیادہ ہوتی تھی اور اس طرح دکانیں آوارگی کا ایک اڈہ بن کر رہ جاتی تھیں ۔ بہر حال اس نئے قصبہ میں دکانیں کسی شخص واحد کی ملکیت نہیں ہوگی۔ (7) الفضل میں اعلان شائع ہونے کی تاریخ سے لے کر ایک مہینہ تک ہدیہ مالکانہ ایک سو روپیہ فی کنال لیا جائے گا۔ اس کے بعد ہر سال یہ رقم بڑھتی جائے گی۔ ( یہ میعاد پندرہ اکتوبر کوختم ہو جائے گی۔ اس وقت تین سو تیس کنال اراضی کی درخواست آ چکی ہے )۔ روشنی، پانی، سڑکوں اور دیگر انتظامات کے لیے پانچ لاکھ روپے کے اخراجات کا اندازہ ہے۔سکولوں، کالجوں پر بھی پانچ لاکھ کا اندازہ ہے۔ تو دس لاکھ کے قریب مزید خرچ ہو گا اور وہاں رہنے کا والوں نے ہی اُن سے فائدہ حاصل کرنا ہے۔ اس لیے یہ اخراجات زمین کی قیمت سے ہی نکالے جائیں گے۔ صرف چار پانچ سو ایکڑ زمین شہر میں لگ سکے گی۔ باقی زمین ایسی نہیں کہ اس پر مکان بن بن سکیں۔ پس اس زمین میں سے یہ اخراجات نکالے جانے ضرور ہیں ۔ (8) دکانوں کی عام اجازت نہ ہو گی بلکہ ضرورت کے مطابق نائیوں ، دھوبیوں ، موچیوں وغیرہ کی دکانیں ہوں گی اور گنجائش کے مطابق دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔