خطبات محمود (جلد 29) — Page 292
خطبات محمود 292 1948ء کر سکتے ہیں ۔ مگر کہا گیا کہ یہ کام چونکہ اہم ہے اس لیے کاغذات کا منسٹری کے پاس جانا ضروری ہے۔ کا غذات منسٹری کے پاس بھیجے گئے ۔ منسٹری نے کہا ابھی ان پر غور کرنے کے لیے فرصت نہیں ۔ آخر ایک لمبے انتظار کے بعد جون میں فیصلہ ہوا اور زیادہ سے زیادہ جو قیمت ڈالی گئی وہ وصول کی گئی۔ یہ واقعات میں نے اس لیے بتائے ہیں کہ گورنمنٹ کے افسران نے ہمارے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی بلکہ ان میں سے بعض کی غفلت کی وجہ سے ہم سال بھر تک اُجڑے رہے۔ اب جگہ ملی ہے۔ صرف ایک کسر باقی ہے اگر وہ دور ہو گئی تو جلد آبادی کی کوشش کی جائے گی۔ ہیں۔ گزشتہ تلخ تجربوں کے بعد اس نئی اراضی پر مکانات بنانے کے متعلق چند فیصلے کیے گئے (1) مکانوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں رہنے دیا جائے گا۔ قادیان میں لوگوں نے زمینیں خرید کر کے اسے خالی ہی پڑا رہنے دیا تھا اور مکانات وغیرہ نہیں بنائے تھے جس کی وجہ سے ہم پوری طرح حفاظت کا بندوبست نہ کر سکے۔ ہمیں جو نقصان پہنچا اُس کی تمام ذمہ داری انہی لوگوں پر تھی ۔ یہ نقصان ان جگہوں کے پُر ہو جانے کی صورت میں نہیں ہو سکتا تھا۔ ہم نے آبادی کے ارد گرد دیواریں بنانے کی کوشش کی مگر گورنمنٹ نے ہمیں ایسا کرنے سے روکا اور کہا کہ تم سڑکوں کو روکتے ہو۔ چونکہ اس کی مرضی تھی کہ مسلمان یہاں سے نکل جائیں اس لیے اس نے چاہا کہ کسی قسم کی کوئی حفاظتی تدبیر نہ کی جائے ۔ اس تلخ تجربے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کوئی بھی زمین خریدے اور مکان بنائے مکانوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوگا۔ اور جو مقررہ مدت میں مکان نہیں بنا سکے گا اس کی زمین کسی اور کو دے دی جائے گی جو جلدی مکان بنا سکے۔ اس طرح بستی قلعہ کی صورت میں بدلتی جائے گی ۔ ہاں جس کی زمین ہو گی اُسے دوسری جگہ پر زمین دے دی جائے ئے گی۔ گی۔ (2) زمین فروخت نہیں کی جائے گی بلکہ ٹھیکہ پر دی جائے گی اور اس کی اصل مالک صدرانجمن احمد یہ پاکستان ہی رہے گی۔ (3) اس وقت زمین سو روپے فی کنال کے حساب سے دی جائے گی۔ پچاس روپے بطور ہدیہ مالکانہ اور پچاس روپے شہر کی ضروریات کے لیے۔