خطبات محمود (جلد 29) — Page 200
1948ء 200 خطبات محمود ماننے کے لیے تیار نہیں۔ غرض عوام اور چھوٹے حکام کے درمیان خواہ کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو وہ ایسے وقت میں بالکل متحد ہو جائیں گے اور اسے اپنے اوپر ایک قومی فرض سمجھیں گے۔ فوج عوام کے ساتھ مل جائے گی اور اس بات کی پروا نہیں کرے گی کہ پنڈت جواہر لال صاحب نہر و یا دوسرے لیڈر پروا اُنہیں کیا حکم دیتے ہیں۔ لیڈروں کو تو بعد میں بھی منایا جا سکتا ہے۔ مہا راجہ سے بعد میں بھی معافی مانگی جا سکتی ہے۔ مگر قومی فرض کو پیچھے نہیں ڈالا جا سکتا۔ پس جہاں تک ہو سکے اس علاقہ کے لوگوں کو بہت جلد تیار ہو جانا چاہیے۔ اس علاقہ کی توریل بھی ہمارے قبضہ میں نہیں ۔ حکومت پاکستان نے ابھی اُسے نہیں خریدا۔ وہ جس وقت چاہیں اُسے روک سکتے ہیں۔ دشمن اگر اپنی فوجیں یہاں بھیجنا چاہے تو اُسے ہر قسم کی سہولتیں حاصل ہیں جو پاکستان کو حاصل نہیں ۔ دشمن کی فوجیں گاڑی کے ذریعہ یہاں آسکتی ہیں۔ مگر پاکستانی فوجوں کو حیدرآباد سے آگے پیدل چل کر آنا پڑے گا۔ پھر دشمن گاڑی سے اور بھی زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ دشمن کی فوجیں گاڑی میں بیٹھ کر ارد گرد کے علاقہ پر فائر کر سکتی ہیں اور خود محفوظ رہ سکتی ہیں اور ارد گرد کے علاقہ کو خالی کر اسکتی ہیں۔ پس یہاں کے لوگوں کو بہت جلد بیدار ہو جانا چاہیے اور فوجی ٹریننگ حاصل کرنی چاہیے۔ تمہیں تو بیدار کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی تمہیں تو خود اس بات کا احساس ہونا چاہیے تھا۔ تمہاری اپنی بیٹی اگر سکھوں کے ساتھ نہیں گئی تو تمہاری بھیجی اور بھانجی سکھوں کے ساتھ گئی ہوگی یا تمہارے بھتیجے اور بھانجے کی بیٹی سکھوں کے ساتھ گئی ہو گی۔ اگر تمہارے خاندان کی کوئی لڑکی سکھوں کے ساتھ نہیں گئی تو تمہارے گاؤں کی کوئی لڑکی اُن کے ساتھ گئی ہو گی ۔ تمہارے ساتھ والے گاؤں کی لڑکیوں کو سکھ اُٹھا کر لے گئے ہوں گے ۔ غرض کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں کی لڑکیاں سکھ اُٹھا کر نہیں لے گئے ۔ ان حالات کو دیکھ کر ہر مسلمان کی غیرت کو جوش میں آ جانا چاہیے تھا۔ ان حالات کو دیکھ کر ہر مسلمان کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے اوپر سپاہی بننا فرض کر لیتا اور اُس وقت تک دم نہ لیتا جب تک آئندہ کے لیے اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو خطرہ سے محفوظ نہ کر لیتا۔ مسلمانوں میں یہ احساس خود بخود پیدا ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر ہوا کیا ؟ وہ دوسروں کے سمجھانے سے بھی نہیں سمجھے۔ وہ تین تین، چار چارا ایکڑ زمین پر تسلی پاگئے ہیں اور آپس میں لڑائیاں ہو رہی ہیں کہ فلاں شخص کو فلاں زمین کیوں مل گئی؟ وہ مجھے ملنی چاہیے تھی۔ انہیں تو چاہیے تھا کہ وہ اپنی اور اپنی قوم کی عزت کی طرف زیادہ توجہ کرتے اور اپنا مقصد زندگی یہ مایه