خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 199

1948ء 199 خطبات محمود ہاتھ آئیں اور کسی جگہ سے دس دس ہیں میں رائفلیں اُن کے ہاتھ آئیں اور کئی جگہوں پر تو اُنہوں نے اس سے بھی زیادہ ہتھیار دشمن سے چھین لیے ۔ کئی تو ہیں، مشین گنیں اور سٹین گئیں اُن کے ہاتھ آئیں اور پھر آہستہ آہستہ خاص فوج ان کی تیار ہو گئی۔ پس اگر پندرہ بیس رائفلیں مہیا کر لی جائیں تو ضرورت کے وقت اپنی طاقت کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ اگر سب لوگ ٹریننگ حاصل کر لیں اور منتظم ہو جائیں تو دشمن اس طرف منہ بھی نہیں کرے گا اور اگر اُس نے حملہ کیا تو وہ منہ کی کھائے گا۔ منہ سکھوں نے جب قتل و غارت شروع کیا اُس وقت بھی ہم شور مچاتے رہے اور لوگوں کو جگاتے رہے لیکن وہ باوجود جگانے کے سوئے رہے۔ مسلمان یہ سمجھتے رہے کہ اگر سکھوں نے اُن پر حملہ کر دیا تو وہ نعرہ تکبیر بلند کریں گے اور دشمن بھاگ جائے گا یا حکومت اُن کی مدد کرے گی ۔ مگر یہ نعرہ ہائے تکبیر الٹے اُن پر ہی آپڑے اور حکومت نے بھی اُن سے آنکھیں پھیر لیں ۔ سکھوں کے پاس رائفلیں تھیں اور مسلمانوں کے پاس صرف نعرہ ہائے تکبیر ۔ مگر نعرہ ہائے تکبیر بھی اُس وقت تک فائدہ نہیں پہنچا سکتے جب تک کوئی عملی صورت اختیار نہ کی جائے۔ حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں اور خطرات بڑھ رہے ہیں ۔ گزشتہ دنوں میں یہ افواہ عام مشہور تھی کہ 15 جون کو دونوں ملکوں میں لڑائی ہو جائے گی ۔ اصل میں دونوں ملکوں کے حالات بہت زیادہ بگڑ گئے ہیں۔ کشمیر کا معاملہ جوں جوں لمبا ہوتا جاتا ہے لوگوں میں جوش بڑھتا جاتا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کا بدلہ ہم ان علاقوں سے لیں گے۔ پس لڑائی جتنی لمبی ہو گی اُتنا ہی لوگوں میں ایک دوسرے کے خلاف جوش پیدا ہو گا۔ ممکن ہے کہ عوام اپنے آپ سے باہر ہو کر کسی جگہ پر ہلہ بول دیں اور یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ کونسی جگہ پر ہلہ بولیں ۔ مثلاً جودھپور کو ہی لے لو۔ اگر جودھپور کی حکومت یہ کہہ دے کہ ہم اب کوئی بند و بست نہیں کر سکتے ، ہم دشمن کو زیادہ دیر تک نہیں روک سکتے تو تم کیا کر سکتے ہو۔ دشمن کی فوجیں بھی عوام کے ساتھ مل کر کام کرنے لگ جائیں گی بڑوں کی کون پروا کرتا ہے۔ وہ بے شک اعلان پر اعلان کرتے رہیں مگر اُن کی سُنتا کون ہے۔ پنڈت جواہر لال نہر وصاحب بے شک کہتے رہیں کہ ایسا مت کرو، دوسرے لیڈر بے شک شور مچاتے رہیں ، گاندھی جی کی سکیم کو بے شک اُن کے سامنے رکھا جائے وہ اس کی بھی پروا نہیں کریں گے۔ پچھلے فسادات میں عموماً لوگ یہی سمجھتے تھے کہ ہم گاندھی جی کے ساتھ نہیں ہم تو اپنی قوم کے ساتھ ہیں۔ قوم جو کہے گی وہی ہم کریں گے۔ گاندھی جی کی بات ہم