خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 145

خطبات محمود 145 1948ء مارے گی ۔ سوائے اس کے کہ وہ غصہ میں پاگل ہو جائے مگر ہمارا خدا غصہ میں پاگل نہیں ہو سکتا۔ ماں کے متعلق تو یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ اسے بعض دفعہ اتنا غصہ ہو کہ اگر بچہ اس فعل سے رُک جائے تب بھی دیوانگی اور جوش کی حالت میں وہ اُسے مارنے لگ جائے ۔ گو عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ ماں کی مامتا فوراً وہ مارنے جائے۔ کوعام طور پر ایسا ان کی مامتافورا روک بن جاتی ہے اور وہ بچے کو بلا وجہ نہیں مارتی ۔ وہ سمجھتی ہے کہ جب میری غرض پوری ہوگئی ہے تو مجھے مارنے کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن اگر کوئی ماں اپنے بچہ کو بلا وجہ مارنے لگ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ کے متعلق ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بلا وجہ اپنے بندوں کو دکھ میں ڈالتا ہے۔ جب ہمیں نظر آتا ہے کہ خدا نے مسلمانوں کو تھپڑ مارا اور اتنا سخت مارا کہ اُس رحیم و کریم ہستی پر نظر کرتے ہوئے اس کی امید نہیں کی جا سکتی تھی۔ تو صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ رحیم و کریم ہستی لوگوں کے گناہوں سے تنگ آگئی تھی ۔ وہ ان کے اعمال سے زچ ہو گئی تھی ، وہ انہیں سمجھاتے سمجھاتے تھک گئی تھی ۔ اُس نے چاہا کہ بندہ اُس کی طرف آئے اور اُس کی محبت اور پیار کو حاصل کرے مگر انسان نے اُس کی آواز کو نہ سنا، نہ سمجھا اور نہ مانا۔ آخر اس نے انسان کے فائدہ کے لیے ایک تھپڑ مارا اور بڑا سخت مارا۔ چاہیے تھا کہ اس کے بعد لوگ اپنی اصلاح کر لیتے اور دوسرے تھپڑ کی نوبت نہ آتی مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اب تک انسان اُنہی کاموں میں مشغول ہے جن میں وہ پہلے مشغول تھا۔ اب تک ایثار اور قربانی کا مادہ اُس نے اپنے اندر پیدا نہیں کیا، اب تک نیکی اور تقوی کی روح اُس نے اپنے اندر پیدا نہیں کی ۔ وہ پھر انہی غفلتوں اور اُسی ٹوٹ مار اور دنگا فساد میں مشغول ہے جس میں وہ پہلے مشغول تھا۔ صاف پتہ لگتا ہے کہ اب کے پھر تھپڑ پڑے گا اور وہ پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔ بہر حال یہ ساری چیزیں ایک چیز کی طرف اشارہ کر رہی ہیں ۔ الہی خبریں کہہ رہی ہیں کہ ابھی اور ابتلا آنے والے ہیں۔ رپورٹیں اور مخبریاں بتا رہی ہیں کہ شرارتوں اور فسادوں کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ تمہارے نفس بتا رہے ہیں کہ جس غرض کے لیے تھپڑ مارا گیا تھا وہ پوری نہیں ہوئی ، جس مقصد کے تیار کے لیے تھپڑ مارا گیا تھاوہ پر ہوئی مقصد کے لیے تمہیں پیٹا گیا تھا وہ ابھی حاصل نہیں ہوا۔ جب پہلے تھپڑ کی غرض یہی تھی کہ تمہاری اصلاح ہو تو پہلے یہی ہو تو ماصورت میں لازمی طور پر دوسرے تھپڑ کی تیاری کی جائے گی سوائے اس کے کہ تم اُس کے مارنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلو۔ پس میں تمہیں ایک دفعہ پھر توجہ دلاتا ہوں ۔ یہ نہیں کہ آخری دفعہ بلکہ اگر ہر دفعہ بھی مجھے یہی