خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 144

1948ء 144 خطبات محمود اگر پانچ دس آدمی کسی حادثہ کی وجہ سے مرجائیں تو کہرام مچ جاتا ہے مگر یہاں تو پانچ دس نہیں بارہ تیرہ لاکھ آدمی مارا گیا ہے اور اتنا آدمی مارا گیا ہے کہ جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ کہا جاتا ہے کہ تیمور نے اتنے آدمی مارے تھے کہ بعض جگہ مردوں کے تو دے لگ جاتے تھے۔ نہ معلوم تاریخ اس بارہ میں کتنا مبالغہ کرتی ہے لیکن اگر یہ واقعہ ہے اور سچ ہے تو بھی تیمور نے جو تو دے لگائے تھے اُس سے سینکڑوں گنا بڑے تو دے پچھلی تباہی کی وجہ سے لگے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ تیمور نے مردوں کا ایک جگہ ڈھیر لگا دیا تو تو دہ بن گیا مگر پنجاب کے مُردوں کا ڈھیر نہیں لگایا گیا ۔ اگر پنجاب کے مردوں کی لاشیں بھی ایک جگہ اکٹھی کی جائیں تو تیمور کے تودوں سے سینکڑوں گنا بڑے تو دے بن جاتے ۔ مثلاً وہی قافلہ جو قادیان سے پیدل چلا تھا اس کے متعلق ہمارا اندازہ یہ ہے کہ اس میں سے ہزار سے دو ہزار تک آدمی رستہ میں مار دیئے گئے تھے۔ چنانچہ اس کے سات آٹھ دن بعد جو قافلے قادیان گئے اور جن میں بعض انگریز بھی تھے اُنہوں نے بتایا کہ راستہ میں مردوں کی بُو کی وجہ سے ناک کو کھولا نہیں جا سکتا تھا۔ نہر میں ریت کے اندر مر دے پڑے ہوئے تھے، کھیتوں میں مُردے پڑے ہوئے تھے اور گدھ اور چیلیں چاروں طرف منڈلاتی اور لاشوں کو نو چتی ہوئی نظر آتی تھیں ۔ اگر ان تمام مردوں کا ایک جگہ ڈھیر لگا دیا جاتا تو شاید تیمور کی گردن بھی شرم کے مارے جھک جاتی یا یوں کہو کہ اُس کی گردن اونچی ہو جاتی اور وہ کہتا کہ میں نے تو اتنے آدمی نہیں مارے جتنے ان لوگوں نے مارے ہیں۔ غرض حالات کے فرق کی وجہ سے بعض دفعہ ایک چیز کی اہمیت نظر نہیں آتی مگر جو کچھ پیچھے ہوا اس کے حالات بتا رہے ہیں کہ وہ ایک شدید ترین مصیبت کا دور تھا جو مسلمانوں پر آیا۔ اگر خدا نخواستہ اب اس سے بھی بڑی مصیبت آئی تو تم خود ہی اندازہ لگا سکتے ہو کہ وہ کیا ہوگی ۔ جتنی رپورٹیں ملتی ہیں اُن سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ بغض اور کینہ کی آگ کو ہوائیں دی جا رہی ہیں اور آئندہ فساد کے منصوبے کیے جارہے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی یہی آوازیں آ رہی ہیں اور تمہارے نفوس کی حالت بھی آرہی اور یہی بتاتی ہے کہ ابھی اور مصائب آنے والے ہیں۔ دیکھو! کوئی ماں اپنے بچے کو مارنا نہیں چاہتی ۔ اگر وہ کسی غلطی پر اسے تھپڑ مارتی ہے اور بچہ پھر وہی کام کرتا ہے جس پر اسے تھپڑ مارا گیا تھا تو صاف پتہ لگ جاتا ہے کہ ماں اُسے پھر تھپڑ مارے گی کیونکہ وہ پھر وہی کام کرنے لگ گیا ہے جس سے ماں نے اُسے روکا تھا۔ اگر بچہ اس فعل کے ارتکاب سے رُک جائے تو عقلمند انسان جان لیتا ہے کہ اب ماں اُسے نہیں