خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 415

سال 1947ء 415 خطبات محمود ایسے لوگ کھڑے کیا کرتا ہے جو اس کے الہام کے مورد ہوتے ہیں ، ان پر کلام الہی کے معارف کھولے جاتے ہیں اور انہی کی اقتدا اور پیروی ان کو نجات دلاتی ہے ۔ مگر اس آیت کی تفسیر کے لحاظ سے یہ معنی میں نے پہلے کبھی بیان نہیں کئے کہ جب تم میں کسی آیت کے مفہوم کے متعلق اختلاف پیدا ہو جائے تو تم قرآن کریم کی دوسری آیتوں پر غور کیا کرو کہ وہ کن معنوں کی تائید کرتی ہیں ۔ اگر آیات نہ ملیں تو احادیث نبوی میں اس کا مفہوم تلاش کرو۔ اور اگر احادیث نبوی سے بھی تمہیں اس کے معنی نہ ملیں تو کسی ملہم کے کلام اور اس کی تشریحات کی طرف دیکھو۔ کیونکہ خدا تعالیٰ سے تازہ روشنی اور الہام پانے کی وجہ سے اس کا ذہن منور ہو جاتا ہے۔ اور گو اس کا الہام قرآنی الہام سے ادنی ہوتا ہے مگر چونکہ وہ قرآنی طرز کا الہام ہوتا ہے اس لئے اس کے دماغ کو قرآن کریم سے مناسبت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے بیان کردہ معنی زیادہ میچ ہوتے ہیں بہ نسبت ان لوگوں کے جن کے دماغ کو قرآن کریم سے اس رنگ کی مناسبت نہیں ہوتی ۔ جہاں تک اس آیت سے استنباط کئے بغیر ان معانی کا تعلق ہے یہ معنی بیان ہوتے رہتے ہیں ۔ مگر اس آیت کی طرف منسوب کر کے ان معنوں کو پیش کرنا ایک جدید مضمون ہے ۔ در حقیقت ہماری زندگی کا سارا مدار ہی قرآن کریم پر ہے۔ اگر ہماری جماعت قرآن کریم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے تو سارے مصائب اور ساری مشکلات آپ ہی آپ ختم ہو جائیں۔ در حقیقت خدا تعالیٰ سے بعد کے نتیجہ میں ہی مشکلات آنے پر خدا تعالیٰ سے مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے إِنَّهُ لَا يَايْنَسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ 3 انہ کے معنی ہیں یہ یہ قطعی بات بات ہے، حقیقت یہی ہے، ہے ، صداقت یہی ہے ، سچائی یہی ہے ، اور اس کے سوا کوئی حقیقت اور کوئی سچائی اور کوئی صداقت نہیں ۔ گویا ان میں ھو کی ضمیر عام ضمیر نہیں بلکہ ضمیر شان ہے ۔ جس کے معنی ہوتے ہیں حقیقت یہی ہے ، صداقت یہی ہے، سچائی یہی ہے کہ لَا يَايْنَسُ مِنْ رَّوْحِ الله الله تعالیٰ کی مہربانی سے اور اس کی رحمت سے اور اس کے فضل سے کوئی مایوس نہیں ہوتا ۔ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ سوائے قوم کافر کے ۔ جسے خدا تعالیٰ پر یقین اور ایمان نہیں ہوتا اور اس کی رحمت سے مایوس ہو جاتا ہے ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انه کہہ کر اور ضمیر شان لا کر بتا دیا ہے کہ یہ اٹل صداقت اور حقیقت ہے اور اس کے سوا کوئی