خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 414

سال 1947ء 414 خطبات محمود خصوصیت ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کی تفسیر کر دیا کرتا ہے۔ پس جب تم میں کسی آیت کے معنی کے متعلق اختلاف پیدا ہو جائے تو تمہیں قرآن کریم کی دوسری آیتوں کو دیکھنا چاہیے کہ وہ مختلف معانی میں سے کس کی تائید کرتی ہیں ۔ پھر جس کی تائید کریں ہمارا فرض ہے کہ وہ معنی کریں اور جس کی تائید نہ کریں وہ معنی نہ کریں ۔ پھر میں نے کہا دوسری چیزالَی الرَّسُولِ کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے ۔ یعنی اگر قرآن کریم کی آیات سے تم پر حقیقت واضح نہیں ہوتی تو فَرُدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ تم احادیث کو ٹو لو اور دیکھو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کیا معنی بیان فرمائے ہیں۔ اور وہ معنی تمہارے مفہوم کی تائید میں ہیں یا اس کے مخالف ہیں ۔ اگر احاد : ا۔ اگر احادیث نبوی تمہارے معنوں کی تائید میں ہیں تو وہ درست ہیں اور اگر وہ غیر کی تائید میں ہیں تو اُس کے معنی درست ہیں ۔ پھر میں کہتا ہوں کہ تیسرا اصول یہ ہے کہ اگر تمہارا اختلاف دُور نہ ہو تو اولی الامر کی طرف اس تنازعہ کو لو ٹا ؤ۔ اس تفسیر کے لحاظ سے اُولِی الْأَمْرِ مِنْكُمْ کے ایک نئے معنی اس وقت میں کرتا ہوں ۔ عام طور پر اس آیت میں ہم اُولِی الْأَمْرِ کے اور معنی کیا کرتے ہیں اور وہ معنی بھی اس جگہ درست ہیں ۔ لیکن اس وقت میں یہ معنی کرتا ہوں کہ اولی الامر سے وہ لوگ مراد ہیں جن کو خدا تعالیٰ اپنے الہام کے ذریعہ سے معانی سمجھاتا ہے۔ اور میں کہتا ہوں کہ خدا اور رسول کے بعد تم اُس شخص کی طرف رجوع کر دیا اُس کی کتابیں پڑھو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام سے کلام الہی کے معنی سمجھائے ہوں ۔ یہ مضمون ہے جو خواب میں میں نے بیان کیا۔ اس کے بعد خواب کی حالت بدل گئی ۔ اسی دوران ایک معترض بھی اٹھا۔ اس نے بعض اعتراضات کئے مگر اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ۔ بہر حال میں نے تین اصول قرآن کریم کی تفسیر کے بیان کئے ہیں اور تینوں اپنی اپنی جگہ کئی دفعہ بیان ہو چکے ہیں ۔ یہ بھی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اور احادیث میں بھی آتا ہے كَلَامُ اللهِ يُفَسِّرُ بَعْضُهُ بَعْضًا اللہ تعالیٰ کے کلام کا ایک حصہ اس کے دوسرے حصہ کی تفسیر کر دیا کرتا ہے اور یہ بات بھی کئی دفعہ بیان کی جا چکی ہے اور ہر شخص سمجھتا ہے کہ قرآن کریم کے لانے والے سے زیادہ بہتر اس کے معانی کو اور کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔ اور یہ مضمون بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں آچکا ہے کہ ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ