خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 144

خطبات محمود 144 سال 1947ء اس کے ایک معنی تو یہ کئے جاتے ہیں کہ اگر تیرے کوچے میں تیرے حکم سے عاشقوں کے سر کاٹے جاتے ہوں تو میں پہلا شخص ہوں گا جو کہ بآواز بلند کہوں گا کہ میں بھی عاشق ہوں ۔ عام طور پر یہی معنی کئے جاتے ہیں لیکن اس کے علاوہ ایک اور نفسیاتی معنی بھی ہو سکتے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شعر میں قاتل کا ذکر نہیں ۔ فرماتے ہیں کہ اگر تیرے کوچے میں عاشقوں کے سر کاٹے جاتے ہوں ۔ یہ نہیں فرمایا کہ تو سر کاٹتا ہو یا کاٹنے کا حکم دیتا ہو۔ اور جب کلام میں ایک چیز مبہم ہو تو معنوں میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور اس کے جتنے معنی ہو سکتے ہوں وہ سارے لئے جاسکتے ہیں ۔ پس میرے نزدیک اس شعر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اور نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیوی نعمتوں کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور لوگ جائیدادیں ، زمینیں ، مہدے اور لیڈریاں لے لے کر جا رہے ہیں ۔ اور اس میں شک بھی کیا ہو سکتا ہے کہ انسان کو جو کچھ ملتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے ۔ یہ غلے کون دیتا ہے؟ اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔ یہ پھل جسے میوه فروش فروخت کرتے ہیں کون دیتا ہے؟ اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے ۔ یہ ترکاریاں جو کہ ہم دکانوں سے خریدتے ہیں کون دیتا ہے؟ اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔ یہ دودھ اور مکھن دینے والے جانور کس نے پیدا کئے؟ اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کئے ۔ یہ سواری کے جانور اونٹ گھوڑے کس نے پیدا کئے؟ اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کئے ۔ یہ گلیں 3 بنانے په - والا لو ہا کس نے پیدا کیا ؟ اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ۔ یہ سوئی جس سے ہم کپڑے بناتے ہیں کس کے دروازے سے ملتی ہے؟ اللہ تعالیٰ کے دروازے سے ہی ملتی ہے۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہر ایک اپنے اپنے مطلب کی چیز تیرے دربار سے لئے آ رہا ہے۔ زمیندار ہے تو وہ گندم ، جو ، باجرہ مکئی لئے آ رہا ہے ۔ کوئی لوہا لکڑی لئے آ رہا ہے ۔ کوئی پھل اور سبزیاں تیرے دربار سے لئے آ رہا ہے۔ اور کوئی دُنیوی علوم و فنون تیرے دربار سے لئے آ رہا ہے۔ مگر میں خاموش بیٹھا ہوا دیکھ رہا ہوں ۔ دنیا مادی انعامات کی طالب ہے اور وہ اپنے مادی انعامات لے کر واپس جا رہی ہے۔ مگر مجھے اُن سے واسطہ نہیں ۔ ابھی میرا موقع نہیں آیا۔ جب دنیا ساری کی ساری مال و دولت اور جائیداد کو لے کر آ جاتی ہے اور حقیقی روحانیت کا خیال اُس کے دلوں سے مٹ جاتا ہے اور مادی انعامات میں منہمک ہو کر سب کچھ بھول جاتی ہے ۔ اُس کی