خطبات محمود (جلد 28) — Page 143
سال 1947ء 143 خطبات محمود کہ وہ اس بات کی انتہائی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی حکم ایسا نہ رہے جس کو ہمارے کان سنیں اور ہم اُس پر عمل نہ کر سکیں ۔ لیکن یہ ایک بچے کا واقعہ ہے اور ایسے بچے کا جس کی عمر نو دس سال ہے۔ لیکن جس طرح حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے جواب دیا تھا اُسی طرح کا جواب اس کا ہے کہ ایک فیصدی نہیں سو فیصدی دوں گا کیونکہ میرے کانوں نے یہ سنا ہے ۔ کتنا بڑا سبق ہے اس میں میں عقلمندوں کے لئے ۔ اگر ایک بچہ اس قسم کا پختہ ایمان پیش کر سکتا ہے تو وہ جو کہ مستقل اور پختہ ایمان والے ہیں اور جو کہ مستقل ایمان میں سے گزر رہے ہیں اُن کے اندر اس سے کہیں بڑھ کر قربانی کا جذبہ ہونا چاہیئے ۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ کب تک اس کے اندر موجزن رہے گا کیونکہ بچوں پر مختلف دور آتے رہتے ہیں۔ لیکن اس وقت اس نے جو جذبہ پیش کیا ہے وہ قابلِ رشک ہے۔ بعض باتیں چھوٹی ہوتی ہیں لیکن اس میں سبق بہت بڑا ہوتا ہے۔ اور وہ روح جو اُس کام کے اندر ہوتی ہے وہ قابلِ تعریف ہوتی ہے۔ میں نے بھی اسی نقطہ نگاہ سے اس واقعہ کو لیا ہے کہ اگر وہ یہ کہہ دیتا کہ میں نے شاید غلط سنا ہوگا تو وہ زیادہ قربانی سے بچ سکتا تھا لیکن اس نے کہا خواہ مجھے غلطی لگی ہو مگر چونکہ میرے کانوں نے سو فیصدی سنا ہے اس لئے میں زیادہ قربانی کی طرف جاؤنگا تھوڑی کی طرف نہیں جاؤنگا ۔ اُس کی یہ بات سن کر کہ میرے کانوں نے سنا ہے اس لئے میں سو فیصدی ہی دونگا میں نے فیصلہ کیا کہ اس سے سو فیصدی ہی لے لینا چاہیئے ۔ کیونکہ معلوم ہوتا ہے اس کے کانوں میں اللہ تعالیٰ کی آواز آئی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی آواز کو جھوٹا نہیں کرنا چاہیئے ۔ میں نے کہا اچھالا ؤ تم سے سو فیصدی ہی لے لیتے ہیں۔ ہماری جماعت کے لئے یہ امتحان کوئی پہلا امتحان نہیں بلکہ اس سے پہلے کئی امتحان آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت ان امتحانات میں بالکل ثابت قدم رہی ہے۔ اور جتنا جتنا ہم آگے بڑھتے جائیں گے ہمارے امتحانات بھی زیادہ شدت اختیار کرتے جائیں گے۔ اور کوئی وقت ایسا نہیں آ سکتا جبکہ ہم یہ کہہ سکیں کہ اب قربانیاں کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیشہ قربانیاں بڑھتی چلی جائیں گی۔ اور مومن کے لئے قربانی ہی سب سے مزیدار چیز ہے اور وہی اصل چیز ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک شعر ہے در کوئے تو اگر سر عشاق را زنند اول کسے کہ لافِ تعشق زند منم 2