خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 443

1946ء 443 33 خطبات محمود بظاہر آنے والے دن ہماری جماعت کے لئے زیادہ خطر ناک اور زیادہ قربانیوں کا مطالبہ کرنے والے ہوں گے )فرمودہ 13 ستمبر 1946ء( تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ زمانہ کے حالات بسرعت بدل رہے ہیں اور ہر آنے والا تغیر ہماری جماعت کے لئے زیادہ سے زیادہ مشکلات پیدا کرنے والا معلوم ہوتا ہے۔ رسول کریم صلی الله یم لی علیم نے جب مکہ سے ہجرت فرمائی تو بظاہر حالات یہ تبدیلی تبد مقام اپنے اندر بہت سے خطرات رکھتا تھا لیکن مسلمانوں کی قربانیاں اور اخلاص مل کر اللہ تعالیٰ کے فضل کے جاذب ہوئے اور وہی چیز جو بظاہر ایک تکلیف دہ اور پر مصائب نظر آتی تھی وہی آرام اور راحت کا موجب بنی۔ اور وہی چیز جو ناکامی اور نامرادی کا ذریعہ نظر آتی تھی وہی اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کی کامیابی کا ذریعہ اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کی کامیابی کی ثابت ہوئی۔ مکہ والوں نے رسول کریم صلی علیم کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا۔ گو وہ اپنے قتل کے منصوبوں میں ناکام رہے لیکن وہ رسول کریم صلی علیم کے مکہ چھوڑ جانے کو بھی اپنی فتح ہی سمجھتے تھے۔ چنانچہ رسول کریم صلی علم کے مدینہ تشریف لے جانے کے بعد مکہ والوں نے مسلمانوں پر اس طرح ظلم کرنا چھوڑ دیا جس طرح وہ پہلے کیا کرتے تھے اور تین چار ماہ مسلمان اس قسم کی کی تکلیفوں سے بچے رہے کیونکہ مکہ والے سمجھتے تھے کہ ہم نے نے محمد ( رسول الله صل الم) کو نَعُوذُ باللہ ختم کر دیا ہے۔ لیکن جب مکہ والوں نے دیکھا کہ جس چیز کو ہم اپنے لئے فتح سمجھتے ہیں و وہ