خطبات محمود (جلد 27) — Page 423
1946ء 423 خطبات محمود رض تو صحابہ نے رسول کریم صلی علیم کے لئے ایک عرشہ تیار کیا۔ اور آپ سے عرض کیا یا رَسُولَ الله ! آپ اس عرشہ پر بیٹھ کر دعا کریں اور لڑائی میں شامل نہ ہوں۔ لڑائی کے لئے ہم کافی ہیں۔1 آپ ہمارے لئے دعا فرمائیں۔ چنانچہ آپ نے نہایت رقت سے دعا شروع کی اور کہا اے خدا! اگر تُو نے اس مٹھی بھر : سر جماعت کو ہلاک کر دیا اور تُو نے ان کی مدد نہ کی فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ تو ان کے بعد تیری عبادت کرنے والا کوئی شخص دنیا میں نہ رہے گا۔ 2 یعنی نمازیں پڑھنے والے نہ ہوں گے تو نماز کون پڑھے گا۔ پس جہاد کے موقع پر ایک نمازی کی غفلت سے کئی جانیں ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔ فرض کرو ایک مومن کی غفلت سے صرف ایک مومن کی جان ضائع ہوتی ہے تب بھی چونکہ عام طور پر انسان کی عمر پچاس ساٹھ سال ہوتی ہے اگر وہ ساٹھ سال زندہ رہتا تو ہزارہا نمازیں ادا کرتا۔ لیکن اس شخص کی ایک بے موقع نماز سے وہ سب نمازیں ضائع ہو گئیں۔ شریعت کا حکم ہے کہ سات سال کی عمر میں بچے کو نماز پڑھانی شروع کرنی چاہئے۔ اور اگر دس سال کا ہو جائے اور نماز نہ پڑھے تو اُسے مار کر نماز پڑھائی جائے۔ 3 اگر ہم یہی فرض کریں کہ وہ پچاس سال زندہ رہتا اور ہر روز پانچ نمازیں پڑھتا تو ایک سال میں 1825 نمازیں پڑھتا۔ اور اسے پچاس سے ضرب دیں تو یہ تعداد اُس کی پچاس سال کی نمازوں کی ہو گی۔ لیکن ایک شخص کی بے موقع نماز نے یہ سب نمازیں گنوادیں۔ اور اگر اس شخص کی غلطی کی وجہ سے پانچ دس آدمی مارے گئے تو لاکھوں نمازیں ضائع ہوئیں۔ ایسے شخص کا جہاد کے وقت نماز پڑھنا نیکی نہیں کہلا سکتا۔ اسی طرح بعض دفعہ بدی نیکی بن جاتی ہے اور اس کی مثال بھی میں کئی دفعہ دے چکا ہوں کہ بڑوں کی بے ادبی کرنا ایک بہت بڑا گناہ ہے اور اُن کو جوتی یا بوٹ مار نا تو اور بھی کبیرہ گناہ ہے۔ لیکن اگر ایک شخص دیکھتا ہے کہ اس کے باپ کے سر پر پیچھے سے سانپ چڑھ رہا ہے اور اس کو ڈسنے والا ہے تو اگر وہ کہے کہ والد صاحب آپ کی پیٹھ پر سانپ چڑھ رہا ہے تو اتنی دیر میں وہ سانپ اُس کے والد کو کاٹ لے گا۔ کیونکہ ان کیڑوں کو برانگیختہ کرنے کے لئے چھوٹی سے چھوٹی حرکت بھی نہایت خطرناک ہوتی ہے۔ اب اُس کے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ اسی جگہ پر اُس کا سر کچل دے اور اس کے پاس اس سانپ کو مارنے کے لئے کوئی چیز نہیں۔