خطبات محمود (جلد 27) — Page 422
1946ء 422 (31) خطبات محمود مسلمانوں کی ہستی نہایت ہی خطرہ میں ہے (فرموده 30 اگست 1946ء بمقام ڈلہوزی) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: چونکہ وقت کافی ہو چکا ہے اور جمعہ کا وقت کم رہ گیا ہے۔ گو جمعہ کے متعلق بعض فقہاء نے لکھا ہے کہ جمعہ اشراق سے عصر تک پڑھا جا سکتا ہے اور سارا دن ہی اِس کا وقت ہے لیکن تعامل یہی ہے کہ جمعہ ظہر کے اوقات میں ہی پڑھا جاتا ہے۔ اِس لئے میں اختصار کے ساتھ خطبہ پڑھوں گا۔ مختلف کاموں کو مختلف زمانوں میں اہمیت حاصل ہوتی ہے اور اس کی مثالیں کئی دفعہ میں نے بیان کی ہیں کہ ایک عبادت کو اُس کے مناسب اوقات میں بجالانا ہی نیکی ہے اور اُس نیکی کو اُس کے مناسب اوقات میں بجانہ لانا ہی اسے بدی بنا دیتا ہے اور بعض دفعہ بدی کو کسی مناسب موقع پر کرنا بھی اسے نیکی بنا دیتا ہے۔ اس کی مثالیں میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں۔ مثلاً جہاد کا وقت ہو اور کوئی شخص مصلی بچھا کر نماز شروع کر دے۔ اب بظاہر نماز ایک نیکی کا کام ہے اور جو شخص نماز نہیں پڑھتا اُس کے متعلق اسلام کا حکم ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ لیکن جب جہاد شروع ہونے والا ہو یا شروع ہو چکا ہو تو اس وقت کسی کا نماز شروع کر دینا اُس کو گنہگار بنادیتا ہے۔ کیونکہ اگر دشمن اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے تو وہ مسلمانوں کے جان ومال دونوں کو تباہ کر دے گا اور جب مسلمان ہی نہ رہے تو پھر نمازیں کون پڑھے گا۔ تو ایسے شخص کا ایک نماز پڑھنا لاکھوں بلکہ کروڑوں نمازوں کے ضیاع کا موجب ہو گا۔ جب جنگ بدر ہوئی