خطبات محمود (جلد 27) — Page 377
1946ء 377 خطبات محمود آئے۔ اور مسلمان دوسری اقوام پر فوقیت لے جائیں۔ صا الله اسلامی تاریخ میں ایک صحابی کے متعلق یہ واقعہ آتا ہے کہ وہ ایک جنگ میں قید الله سه ہو گئے۔ قید کرنے والوں نے یعنی مکہ والوں نے ان کو خرید لیا۔ کیونکہ ان کا ایک آدمی جنگ میں کام آیا تھا اور انہوں نے قسم کھائی تھی کہ ہم اس کا بدلہ ضرور لیں گے۔ جب وہ مکہ پہنچے تو لوگ ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے۔ انہوں نے اس صحابی سے کہا کہ کل تو تم مار دیئے جاؤ گے۔ کیا تمہارا دل نہیں چاہتا کہ تم مدینہ میں آرام سے اپنے بیوی بچوں میں بیٹھے ہوتے اور محمد (صلی اللی سیم) تمہاری جگہ یہاں قید ہوتے ؟ اس صحابی نے ان کو جواب دیا۔ تم تو کہتے ہو کہ میں مدینہ میں آرام سے اپنے بیوی بچوں میں بیٹھا ہوا ہوتا اور محمد رسول اللہ صلی علیکم میری جگہ یہاں قید ہوتے۔ بے وقوفو! میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میں مدینہ میں اپنے بیوی بچوں میں بیٹھا ہوتا اور محمد رسول اللہ صلی علی ایم کو مدینہ کی کسی گلی میں کانٹا چبھ جاتا۔ 5 یہ ہے اصل ایمان اور یہ ہے اصل محبت جو سچے عاشق کو اپنے معشوق سے ہوتی ہے۔ یہ بھی کوئی ایمان ہے کہ لوگ رسول کریم صلی تعلیم کو گالیاں دیتے چلے جائیں اور آپ پر ناپاک حملے کرتے چلے جائیں۔ لوگ اسلام سے مرتد ہوتے چلے جائیں۔ اسلام دن بدن کمزور ہوتا چلا جائے لیکن مسلمانوں کو یا تو یا تو اپنی ملازمتوں اور تجارتوں کا فکر ہو اور یا پھر اپنے حجرے اور اپنی تسبیح سے ہی کام ہو۔ یہ تسبیحیں یقیناً بے ایمانی کی تسبیحیں ہیں اور یہ سجدے یقینا ریا کاری کے سجدے ہیں۔ ایسے لوگوں کے سجدے ان کے منہ پر مارے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ لوگ مجھ پر اور میرے رسول پر حملے کرتے تھے اور تم حجروں میں آرام سے تسبیحیں پھیرتے رہے۔ جب جہاد کا موقع ہوتا ہے تو نماز باوجود ایک بڑے عظیم الشان رُکن کے پیچھے کر دی جاتی ہے اور کم کر دی جاتی ہے۔ فرض نمازوں کا وقت پیچھے کر دیا جانا بتاتا ہے کہ جس وقت جہاد ہو رہا ہو اس وقت جہاد کو ہی اہمیت حاصل ہے۔ جہاد کے وقت اگر کوئی شخص مصلی بچھا کر نماز شروع کر دے تو اسے تمام مسلمان یا تو پاگل یا منافق خیال کریں گے۔ اس وقت بھی اسلام پر چاروں طرف سے حملے کئے جارہے ہیں گو یہ تلوار کے حملے نہیں ہیں بلکہ قلم کے حملے ہیں۔ لیکن ہمارا فرض ہے کہ جس رنگ میں دشمن اسلام پر حملہ