خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 376

1946ء 376 خطبات محمود صد میرم دیا پس کامیابی کی اصل جڑ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی عزت کو دنیا میں قائم کیا جائے اور ان کی محبت کو دلوں میں قائم کیا جائے تا اللہ کی مدد اور اس کے رسول کی دعائیں ہمارے ساتھ ہوں۔ لیکن افسوس ہے کہ جو شخص اس کام کو کرنے کے لئے کھڑا ہوا اس سے ان لوگوں نے یہ سلوک کیا ہے کہ بجائے مدد دینے کے اس کے رستے میں روڑے اٹکاتے رہے ہیں او ر بجائے اس کے کام کو سراہنے کے اسے گالیاں دیتے رہے۔ اور اس بات کو نہیں دیکھا کہ اس شخص نے آکر قرآن کریم اور حدیث کو دوبارہ دنیا میں قائم کیا ہے اور اسلام کو ایسے مقام پر کھڑا کیا ہے کہ دنیا کا کوئی مذہب اس کے مقابلہ پر نہیں ٹھہر سکتا۔ اور اس نے ایک ایسا میدانِ جنگ تیار کیا ہے کہ عیسائیت اور یہودیت اور دوسرے مذاہب اس میدان سے بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ رسول کریم صلی السلام لی السلام کے کے زمانہ زمانہ میں دشمن تلوار سے حملہ کرتا تھا اِس لئے تلوار سے جواب د گیا۔ آج دشمن قلم سے حملہ کرتا ہے اس لئے قلم سے ہی جواب دیا گیا ہے۔ بہر حال جہاد خواہ کسی رنگ کا ہو اس میں قربانی کی ضرورت ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت اس جہاد کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کر رہی ہے۔ لیکن کیا وہ لوگ مومن ہو سکتے ہیں جو جہاد کے وقت اپنے دنیوی کاموں میں مشغول رہیں یا جو لوگ جہاد کے وقت اپنے حجرے بند کر کے تسبیحیں پھیرنی شروع کر دیں؟ مومن تو موقع اور ضرورت کے مطابق عمل بجالاتا ہے۔ اگر ان تسبیحیں پھیرنے والوں کے دلوں میں خدا اور رسول کی محبت ہوتی تو یہ مقابلے کے لئے اپنے گھروں سے نکلتے اور وہاں پہنچتے جہاں خدا اور رسول پر حملے کئے جاتے ہیں۔ اپنے گھروں میں نہ بیٹھ رہتے ۔ لیکن ان لوگوں کے نزدیک سب سے بڑی قربانی یہی ہے کہ گھر میں بیٹھے تسبیحیں پھیرتے رہیں حالانکہ خدا اور اس کے رسول پر باہر حملے کئے جارہے ہیں لیکن ان کو تسبیح پھیرنے سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ اگر ان کے لڑکے کی چھت پر سے گرنے کی خبر آجائے پھر ہم دیکھیں کس طرح بیٹھے تسبیح پھیرتے ہیں۔ سچا عاشق تو وہ ہوتا ہے جو اپنے معشوق کی عزت کے لئے جان تک دے دیتا ہے اور جہاں اس کے معشوق پر حملہ ہوتا ہے وہ وہاں پہنچتا ہے۔ لیکن یہ لوگ دعوئی تو خدا تعالیٰ اور اس کے رسول سے سچے عشق کا کرتے ہیں لیکن گھروں سے باہر قدم نہیں رکھتے اور کوئی ایسی کوشش نہیں کرتے جس سے اسلام دوسرے ادیان پر غالب