خطبات محمود (جلد 25) — Page 385
1944ء 385 خطبات محمود تائید میں بطور گواہ پیش کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ خدا کے قول اور فعل میں کوئی تخالف نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کو دیکھ لو۔ آپ نے جہاں اسلامی مسائل کی فوقیت ثابت کرنے کے لیے قرآنی آیات پیش کی ہیں وہاں آپ نے قانون قدرت سے بھی دلائل پیش کیے ہیں اور فرمایا ہے کہ خدا کے کلام کی سچائی کا شاہد خدا کا فعل ہے اور یہ نا ممکن ہے کہ خدا کا قول اور ہو اور اُس کا فعل کچھ اور ظاہر کر رہا ہو۔ ہمارا کام بھی یہی ہے کہ ہم خدا کی فعلی شہادت اسلام اور احمدیت کی تائید میں کالج اور سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔ یہی مقصد کالج کے قیام کا ہے اور یہی مقصد ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا ہے۔ جن میں اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی تعلیم کے ماتحت دین کی تائید کو مد نظر رکھتے ہوئے نیچر پر غور کیا جائے گا۔ تا کہ ہم اسلام کی سچائی کی عملی شہادت دنیا کے سامنے پیش کر سکیں اور یورپ کے لوگوں سے کہہ سکیں کہ آج تک تم نیچر اور اس کے ذرات کی گواہی قرآن کے خلاف پیش کرتے رہے ہو مگر یہ بالکل جھوٹ تھا۔ تم دنیا کو دھوکا دیتے رہے ہو ، تم جھوٹ بول کر لوگوں کو ورغلاتے رہے ہو ہو۔ ۔ آؤ! ہم تمہیں دکھائیں کہ دنیا کا ذرہ ذرہ قرآن اور اسلام کی تائید کر رہا ہے اور نیچر اپنی عملی شہادت سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی راستبازی کا اعلان کر رہا ہے۔ یہ کام بہت مشکل ہے، یہ کام بہت لمبا ہے اور اس کے لیے بہت بڑے سرمایہ کی ضرورت ہے۔ ابتدائی کام کے لیے ہیں ایم ایس سی ایسے درکار ہوں گے جو رات اور دن اس کام میں لگے رہیں اور اسلام کی تائید کے لیے نئی سے نئی تحقیقاتیں کرتے رہیں۔ میں نے بتایا ہے کہ اس کام پر ستر ہزار سے ایک لاکھ روپیہ تک سالانہ خرچ ہو گا اور شروع میں کم سے کم اس غرض کے لیے دولاکھ روپیہ کی ضرورت ہو گی۔ یورپ میں تو دو دو، چار چار کروڑ روپیہ کے سرمایہ سے ایسے کاموں کا آغاز کیا جاتا ہے اور ممکن ہے ہمیں بھی زیادہ روپیہ خرچ کرنا پڑے مگر ہم امید رنا ہے ہم امید رکھتے ہیں کہ آہستہ آہستہ یہ انسٹی ٹیوٹ اپنی آمد خود پیدا کرے گی اور مستقل اخراجات کے لیے چندہ کی ضرورت نہیں رہے گی۔ سردست میں نے اس کا سارا بوجھ تحریک جدید پر ڈال دیا ہے جماعت سے کسی علیحدہ چندے کا مطالبہ نہیں کیا۔ میں اس وقت صرف