خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 79

1943ء 79 خطبات محمود الله ن ایک دفعہ حضرت عمرؓ کی حضرت ابو بکر سے تکرار ہو گئی۔ حضرت عمرؓ جو شیلے آدمی تھے۔ آپ نے ابو بکر سے کچھ سختی کی۔ اس پر حضرت ابو بکر نے وہاں سے ٹلنا چاہا۔ حضرت عمرؓ نے سمجھا کہ یہ درمیان میں بات چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔ گو حضرت ابو بکر کا مطلب ان کا جوش ٹھنڈا کرنے کا تھا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا کہاں جاتے ہو اور آگے بڑھ کر آپ کا کپڑا پکڑ لیا۔ کپڑا پھٹ گیا مگر آپ چلتے گئے کہ عمر غصہ کی حالت میں ہے۔ اب ان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ حضرت عمرؓ نے سمجھا یہ میری شکایت کرنے حضرت رسول کریم صلی علیم کے پاس گئے ہیں اور ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ غلطی تو میری ہی ہے۔ رسہ میری ہی ہے۔ رسول کریم صلی علی یم ناراض ہوں گے۔ میں بھی چلتا ہوں۔ حضرت عمر وہاں پہنچے تو حضرت ابو بکر کو وہاں نہ پایا۔ انہوں نے سمجھا شکایت کر کے واپس چلے گئے ہوں گے ۔ آپ نے حضرت رسول کریم کے پاس جا کر عرض کیا یا رسول اللہ ! میری غلطی تھی ابو بکر کا قصور نہ تھا بلکہ میر ا تھا۔ جب وہ اپنے قصور کا اقرار کر رہے تھے تو اس وقت کسی نے دوڑ کر حضرت ابو بکر کو بتا دیا کہ حضرت عمرؓ گئے ہیں۔ شاید یہ واقعہ بیان کریں گے اور آپ کی شکایت کریں۔ جس سے آپ کو بد ظنی پیدا ہو۔ یہ سن کر حضرت ابو بکر بھی چل پڑے۔ حضرت عمر وہاں سے آ عمر وہاں سے اس خیال سے چلے تھے کہ رسول کریم صلی علیه یم کو حضرت ابو بکر کی بات سن کر تکلیف نہ پہنچے میں براءت کر آؤں۔ جب حضرت ابو بکر مجلس میں پہنچے تو دیکھا کہ گوشبہ یہ کیا گیا تھا کہ عمر حضرت ابو بکر کی شکایت کرنے گئے ہیں مگر وہ اس کی بجائے اپنے قصور کا اقرار کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یارسول اللہ ! غلطی میری تھی۔ مجھ سے ابو بکر کے حق میں سختی ہو گئی ہے۔ میں معافی چاہتا ہوں۔ یہ بات سنتے ہی رسول کریم صلی اللی کم کا چہرہ متغیر ہو گیا اور آپؐ نے فرمایا: اے لوگو ! تم مجھے اور ابو بکر کو کیوں نہیں چھوڑتے۔ جب تم لوگ انکار کرتے تھے یہ شخص آگے آیا اور کہا میں ایمان لایا۔ میں نے اس میں کبھی کبھی اور انکار کا مادہ نہیں دیکھا۔ 3 صد الله صا سم لوگ اختلافِ رائے رکھتے ہیں کہ پہلے ایمان لانے والا کون تھا۔ حضرت خدیجہ بے شک پہلے ایمان لائیں آخر وہ رسول کریم صلی علیم کی بیوی تھیں۔ خاوند کا ں۔ خاوند کا بیوی پر اثر بھی ہوتا ہے۔ حضرت علی بے شک ایمان لائے مگر وہ بچہ تھے ، آپ کے بھتیجے تھے، آپؐ کے گھر میں