خطبات محمود (جلد 24) — Page 78
1943ء 78 خطبات محمود سة لونڈی نے کہا وہ کہتا ہے آسمان سے مجھ پر فرشتے اترتے ہیں۔ آپ اٹھ کھڑے ہوئے۔ دوست کو کہنے لگے اب میں آرام نہیں کر سکتا۔ فوراً مجھے جانا چاہیئے۔ یہ کہہ کر وہ وہاں سے چل پڑے۔ بغیر اپنے گھر میں ٹھہرے سیدھے آنحضرت صلی العلیم کے پاس پہنچے۔ دروازہ پر دستک دی۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ دروازہ پر تشریف لائے اور دروازہ کھولا۔ دیکھا تو ابو بکر کھڑے تھے۔ آپ کو دیکھتے ہی حضرت ابو بکر نے کہا۔ میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ کیا آپ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور خدا کے فرشتے میرے پر اترتے ہیں؟ رسول کریم صلی الم نے اس خیال سے کہ ان کو ٹھوکر نہ لگے سمجھانے کی کوشش کرنی چاہی کہ نبوت کے دعوی سے کیا مراد ہے اور فرشتوں سے کیا مطلب ہوتا ہے۔ اور فرمایا ابو بکر سنو ! ساری بات یوں ہے۔ ابو بکر نے آپ کو روک کر کہا دیکھو میں خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں اور کوئی بات نہ بتائیں۔ صرف یہ بتائیں کہ کیا آپؐ نے کہا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کے مامور ہیں اور آپؐ پر آسمان سے فرشتے آتے ہیں؟ پھر بھی حضرت رسول کریم صلی علیم نے اپنے پرانے دوست کی ہمدردی کا خیال کر کے مناسب نہ سمجھا کہ مختصر جواب دیں۔ آپؐ نے فرمایا ابو بکر سنو تو سہی۔ حضرت ابو بکر نے کہا میں نے آپ کو خدا کی قسم دی ہے اور کا ہے اور کوئی بات نہ کہیں۔ صرف یہ بتائیں کیا آپ نے خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے اور اس کے کلام کے اترنے کا دعویٰ کیا ہے؟ حضرت رسول کریم صلی الیم نے فرمایا ہاں۔ اس پر حضرت ابو بکر نے کہا آپ گواہ رہیں میں آپ کی اس بات کو تسلیم کرتا ہوں۔ پھر حضرت ابو بکر نے کہا کیا آپ میرے ایمان کو دلیلوں سے ضائع کرنا چاہتے تھے۔ جب میں نے دیکھا ہوا ہے کہ آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں تو مجھے کسی دلیل کی ضرورت نہ تھی۔ دلیلیں کافروں کو سنائیں کہ فرشتے ایسے ہوتے ہیں، اس طرح آتے ہیں۔ اصل سوال تو یہی تھا کہ کیا آپ نے یہ بات کہی ہے۔ جب آپؐ نے اقرار کیا تو ہم نے آپ کی بات مان لی 2 حضرت ابو بکر کا ایمان حضرت رسول کریم صلی علیم کی سچائی کا نتیجہ تھا۔ اگر حضرت ابو بکر نے آپؐ کی سچائی کا اعلیٰ نمونہ نہ دیکھا ہو تا تو ان کو یقین کس طرح پیدا ہوتا۔ اسی واقعہ کی طرف رسول کریم صلی الم نے ایک دوسرے موقع پر اشارہ فرمایا ہے۔