خطبات محمود (جلد 23) — Page 373
1942ء 373 خطبات محمود ثابت کرنے کا موقع مل گیا اور جو کچھ وہ مُنہ سے کہتے تھے اسے سچ ثابت کر دکھایا۔ چنانچہ اُحد کی جنگ میں جب آنحضرت صلی الم کی شہادت کی خبر مشہور ہوئی تو انہوں نے حضرت عمررؓ کو ایک ٹیلے پر بیٹھے اور روتے ہوئے دیکھا تو دریافت کیا کہ عمر رونے کی کیا بات ہے جبکہ مسلمانوں کو فتح ہو گئی ہے۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ تمہیں پتہ نہیں رسول کریم صلی اہم شہید ہو گئے ہیں۔ حضرت انس کے چچا نے جب یہ بات سنی تو اس وقت وہ کھجوریں کھا رہے تھے اور صرف ایک کھجو رہاتھ میں تھی اسے اٹھا کر پھینک دیا اور کہا کہ میرے اور خدا کے درمیان اس کے سوا اور کونسی روک ہے اور اپنے عشق کے لحاظ سے حضرت عمر کی طرف حقارت سے دیکھا اور کہا عمر ! جب آنحضرت صلی الم اگلے جہان چلے گئے تو تم یہاں بیٹھے کیوں روتے ہو۔ جہاں آپ گئے وہیں ہم چلتے ہیں اور اکیلے ہی دشمن کے تین ہزار کے لشکر پر حملہ کر دیا۔ کفار بھی آپ کو شاید پاگل سمجھتے ہوں گے۔ آپ نے لڑتے لڑتے شہادت پائی اور جب جنگ کے بعد آپ کی لاش تلاش کروائی گئی تو ستر ٹکڑے ملے۔ جوڑ جوڑ الگ ہو چکا تھا۔ یہی لوگ تھے جن کے حالات کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا مِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّنْ يَنْتَظِرُ - 7 یعنی یہ میری پیاری جماعت کے لوگ ہیں جن میں سے بعض نے اس وعدہ کو جو انہوں نے اپنے خدا سے کیا تھا پورا کر دیا اور بعض ایسے ہیں کہ انہوں نے گو ابھی پورا تو نہیں کیا مگر اس موقع کے انتظار میں ہیں کہ کب اسے پورا کر سکیں۔ رض پس یہ لوگ تھے صحابہ جو ایک طرف دعائیں کرتے تھے کہ خدایا ہمیں ہر ابتلاء سے بیچا، کیا وہ یہ دعائیں نہ کرتے تھے کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَ عَذَابَ النَّارِ ۔ ضرور کرتے تھے اور اس میں دنیا کے تمام حسنات کے حاصل ہونے کی دعا موجود ہے اور اس طرح اس میں سارے ابتلاؤں سے بچنے کی دعا ہے مگر جب ان کو عمل کا موقع پیش آتا تو وہ ہر خطرناک مقام پر کود جاتے تھے۔ ایک طرف وہ ابتلاؤں سے بچنے کی دعائیں کرتے تھے اور دوسری طرف ابتلا آنے پر اپنے آپ کو شدید خطرات میں ڈال دیتے تھے۔ یہی مومن کی علامت ہے۔ مومن ادھر تو خدا تعالیٰ کے غضب سے ڈرتا ہے مگر دوسری طرف جب دنیا خد اتعالیٰ کو پھولوں اور عطروں میں ڈھونڈتی ہے ، نرم گدوں پر بیٹھ کر خدا تعالیٰ