خطبات محمود (جلد 23) — Page 372
1942ء 372 خطبات محمود پر جب مصیبت آئی تو وہ بھاگ نہیں گئے۔ انہوں نے یہودیوں سے صلح کی کوشش نہیں کی ہاں ساری رات یہ دعا ضرور کرتے رہے کہ اگر یہ پیالہ مجھ سے مل سکتا ہے تو ٹلا دے اور اگر نہیں تو میں تیری مرضی پر راضی ہوں۔ 4 یہی طریق رسول کریم صلی اللہ کا تھا، کیا آپ دعائیں نہ کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو خطروں سے بچائے اور فتن سے محفوظ رکھے مگر یہ نہیں کہ آپ میدانِ جنگ سے پیچھے ہٹیں بلکہ سب سے آگے ہوتے تھے اور صحابہ کہتے تھے کہ ہم سب ۔ سب سے بہادر اس شخص کو سمجھتے تھے جو جنگ میں آنحضرت صلی اللی ایم کے ساتھ ہوتا کیونکہ سب سے زیادہ خطر ناک مقام وہی ہوتا تھا جہاں آپ ہوتے۔5 پس ہماری جماعت کو بھی اپنا یہی طریق بنانا چاہئے تبھی اللہ تعالیٰ کی برکتیں اس پر نازل ہو سکتی ہیں۔ جو بزدل ہے اور میدان سے بھاگتا ہے وہ بھی مومن نہیں اور جو یہ دعا کرتا ہے کہ عذاب آئے وہ بھی مومن نہیں۔ وہ خدا تعالیٰ کا امتحان لینا چاہتا ہے سوائے اس کے کہ کوئی غلطی سے ایسی بات منہ سے نکال دے۔ دے۔ احادیث میں حضرت ا رت انس کے چا کا ایک واقعہ آتا ہے وہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ تھے۔ جب دوسرے صحابہ اس لڑائی کے واقعات ان کے سامنے بیان کرتے اور کہتے کہ ہم یوں لڑے اور اس طرح لڑائی کی تو وہ کہتے کہ تم نے کیا لڑنا تھا۔ اگر کبھی موقع آیا تو ہم بتائیں گے کہ لڑائی کیا ہوتی ہے۔ عام طور پر ایسا فقرہ مومنانہ اخلاق کے منافی ہے مگر وہ یہ بناوٹ سے نہ کہتے تھے بلکہ رشک کی وجہ سے کہتے تھے۔ جب وہ دوسروں سے سنتے کہ انہوں نے اس طرح رسول کریم صلی العلی میم کی حفاظت کی اور اس طرح دشمنوں کو مارا تو ان کا دل خون ہو جاتا اور ان کے دل میں یہ حسرت پیدا ہوتی کہ کاش میں بھی آنحضرت صلی العلیم کی جان کی حفاظت کرنے والوں میں ہو تا۔ یہ تا۔ یہ فقرہ دل کے کے خون ہونے سے ان کے منہ سے نکلتا تھا، تکبر اور فخر کی وجہ سے نہیں۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ وہ یہ فقرہ کسی تصنع یا بناوٹ سے نہ کہتے تھے بلکہ وہ اپنے دل کے خون کو اس طرح بہاتے اور اس پھوڑے کو جو ان کے دل میں تھا اس طرح شگاف دیتے تھے۔ یہ ایک عاشق کا فقرہ تھا جو اسے نیکی سے محروم نہ کرتا۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ انہیں اپنی اس بات کو درست