خطبات محمود (جلد 22) — Page 273
1941ء 274 خطبات محمود صا الله قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ قرآن کریم کے شروع میں بِسْمِ اللہ ہے 10 یعنی میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتا ہوں۔ اس کا مطلب ہی یہ ہے کہ میں بندہ ہوں اور خدا تعالیٰ کی مدد کا محتاج پھر آخر میں اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ 11 ہے اس میں بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ میں بندہ ہوں خدا نہیں ہوں۔ گویا بِسْمِ اللہ سے لے کر آخر تک آپ کی طرف الوہیت کی نسبت کو غلط بتایا گیا ہے اور بار بار کہا گیا ہے کہ آنحضرت (صلی الل صرف بشر رسول ہیں، عبد ہیں۔ تو قرآن کریم میں اگر دو تین ایسی آیات ہیں جن میں آنحضرت صلی ال سلیم کا خدا تعالیٰ کے ساتھ اتحاد اور تعلق ظاہر کیا گیا ہے اور ایسے الفاظ بیان ہوئے ہیں جن سے عوام کو شبہ ہو سکتا ہے تو دوسری آیات میں کثرت کے ساتھ اصلیت بیان کر دی گئی ہے۔ مگر یہ کیا اندھیر ہے کہ محمد صلی علم کو نا لی تو اللہ تعالیٰ نے دو تین جگہ اپنی ذات سے تشبیہ دی اور پھر اس اشتباہ کو دور کرنے کے لئے بار بار آپ کو بشر اور عبد کہہ کر یاد کیا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے متعلق بار بار وہی الفاظ بیان کئے جو دراصل آپ کا صحیح مقام نہ تھا۔ تیس پینتیس سال تک برابر آپ کو نبی اور رسول کے لفظ سے پکارتا رہا۔ اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا کوئی معقول انسان کہہ سکتا ہے کہ آپ کا اصل مرتبہ محدثیت کا ہے۔ اگر آپ کا یہ درجہ ہوتا تو چاہئے تھا کہ بار بار اسی کا ذکر ہوتا۔ جیسے رسول کریم صلی العلیم کے متعلق بشر کا لفظ بار بار فرمایا ہے اور الوہیت سے تشبیہ شاذ کے طور پر دی ہے۔ پھر چاہئے تھا کہ اسی کی تائید آنحضرت صلی ایم کے ارشاد سے ہوتی اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے کلام میں ہوتا۔ کوئی نادان کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی العلیم کا مرتبہ بڑا تھا اور وہ زیادہ محتاط تھے اس لئے قرآن کریم میں بشریت اور رسالت پر خاص زور دیا گیا ہے۔ مگر یاد رہے کہ قرآن کریم رسول کریم صلی علیم کا کلام نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی وحی ہے اور وہ اسی ذات پاک کا اتارا ہوا ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام پر الہام نازل کیا۔ لیکن وہاں تو الوہیت کے ساتھ معمولی سی تشبیہ کے بعد بشر اور عبد بار بار فرمایا اور