خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 272

1941ء 273 خطبات محمود س اللہ تعالیٰ جسے دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجتا ہے۔ رسول کریم صلی الم اس کے اصل مرتبہ کو بیان نہیں فرماتے بلکہ صرف نبی اللہ ہی فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شروع کے الہامات میں ہی اس کو نبی اللہ فرماتا ہے اور آخری الہامات جو وفات کے قریب ہوتے ہیں ان میں بھی رسول اور نبی کے الفاظ ہی اس کے لئے استعمال فرماتا ہے۔ غرض شروع سے آخر تک یہی الفاظ اس کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ پس سمجھنے والے کے لئے اس بات کو سمجھنا نہایت آسان ہے کہ اگر آپ کا اصل درجه مجدد یا محدث ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسی پر زیادہ زور دیتا اور اگر کہیں استعارہ کے طور پر آپ کے لئے نبی کا لفظ استعمال ہوتا (استعارہ سے مراد وہ تشبیہ ہے جس میں حقیقت جنسی نہیں پائی جاتی۔ ورنہ ظلی نبوت جو تشریعی نبوت کے تابع ہوتی ہے۔ بوجہ اس کے کہ اصل سے بہ طریق فیض اخذ کی جاتی ہے ، مستعار کہلا سکتی ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہ نبوت نہیں ہے تو دوسری جگہ اس کی وضاحت کر دیتا۔ مثلاً قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی ال سلیم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تیرا ہاتھ خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہے 8۔ اس میں آپ کے وجود کو الہی وجود سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس سے غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ایک دو اور ایسی آیات ہیں۔ مثلاً ایک دوسری جگہ فرمایا ہے قُلْ يَعِبَادِی 9۔ اور وہاں یہ آنحضرت صلی الم کا کلام نظر آتا ہے اور بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں آپ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تو کہہ۔ اے میرے بندو! مگر یہ آیت تشریح طلب ہے او ربعض مفسرین نے اس کے اور معنے بھی کئے ہیں۔ بہر حال دو تین مقامات قرآن کریم میں ایسے ہیں اور چونکہ اس سے آپ کے درجہ کے متعلق غلط فہمی ہو سکتی تھی اس لئے بشر اور رسول کا لفظ آپ کے متعلق اتنی مرتبہ فرمایا کہ غلط فہمی کا کوئی احتمال باقی نہ رہا اور جب کوئی مخالف اعتراض کرتا ہے کہ دیکھو قرآن کریم میں شرک کی تعلیم ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ تو تشبیہی کلام ہے جس میں آنحضرت صلی ایم کی خدا تعالیٰ سے یگانگت بیان کی گئی ہے۔ ورنہ آپ کے لئے رسول، نبی، عبد اور بشر کے الفاظ سے