خطبات محمود (جلد 21) — Page 273
1940ء 272 خطبات محمود صرف اپنی امت کی طرف منہ کر کے نبی نہیں تھے۔ اسی طرح سلیمان ، زکریا اور یحییٰ نبی تھے موسیٰ کی طرف منہ کر کے بھی۔ یہ نہیں کہ صرف اپنی امت کی طرف منہ کر کے نبی ہوں اور موسیٰ کی طرف منہ کر کے امتی۔ مگر رسول کریم صلی علیم کے ذریعہ یہ عجیب قسم کی نبوت جاری ہوئی کہ ایک ہی نبی جب ہماری طرف مخاطب ہوتا ہے تو وہ نبی ہوتا ہے اور جب محمد صلی الہیم سے مخاطب ہوتا ہے تو امتی بن جاتا ہے اور وہ کسی ایسے کام کا دعوے دار نہیں ہو سکتا جو محمد صلی علیہ یوم نے نہیں کیا بلکہ اس کا فرض ہوتا ہے کہ اسی کام کو چلائے جس کام کو محمد صلی الم نے چلایا کیونکہ فرماتا ہے کہ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ الله تعالیٰ اسے آخرین میں بھی مبعوث کرے گا جو ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ گویا محمدصلی العلم کی دوبارہ بعثت ہو گی اور یہ ظاہر ہے کہ محمد صلی علیم کے دو کام نہیں ہو سکتے۔ وہی کام جو آپ نے پہلے زمانہ میں کئے وہی آخری زمانہ میں کریں گے۔ اس جگہ یہ نکتہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مسیح ناصری کے بھی ظل یا مثیل تھے مگر آپ سے ان کو صرف ظلیت کا تعلق تھا تابعیت کا نہیں کیونکہ گو آپ کو نام مسیح کا دیا گیا تھا کام مسیح کا نہیں دیا گیا تھا۔ کام آپ کو محمد رسول اللہ صلی علیم کا سپر د کیا گیا تھا جیسا کہ سورۂ جمعہ سے ثابت ہے۔ پس حضرت مسیح موعود کو جو مشابہت آنحضرت صلی علیه ریم سے حاصل ہے وہ زیادہ شدید ہے بہ نسبت اس کے جو آپ کو مسیح ناصری سے حاصل ہے۔ اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہو تا نام احمد جس پہ میرا پہ میرا سب مدار 8 پس ہماری جماعت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لاتی ہے اس کے افراد کو یہ امر اچھی طرح یاد رکھنا چاہیے کہ یا تو وہ یہ دعویٰ کریں کہ حضرت مرزا صاحب کو وہ کوئی ایسا نبی سمجھتے ہیں جنہوں نے رسول کریم صلی الی ایم کی اتباع اور آپ کی غلامی سے آزاد ہو کر مقام نبوت حاصل کیا ہے۔ اس صورت میں وہ بے شک کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ ہمارا نبی آزاد ہے اس لئے ہم نئے قانون بنائیں گے۔ اور جو کام ہماری مرضی کے مطابق ہو گا وہی کریں گے اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کریں گے۔ پس اگر ہمارا یہ عقیدہ ہو کہ ہمارا نبی مستقل ہے اور وہ