خطبات محمود (جلد 21) — Page 272
1940ء 271 خطبات محمود الیاس نے اپنے زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق تعلیم دی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق تعلیم دی۔ پس گو وہ ظل تھے الیاس کے مگر الیاس کے تابع نہیں تھے بلکہ تابع حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہی تھے لیکن محمد صلی الم کے متعلق فرما دیا کہ آپ کی نیابت میں جو لوگ کھڑے ہوں گے وہ آپ کے ظل بھی ہوں گے اور آپ کے تابع بھی ہوں گے۔ اور یہ دونوں باتیں ان میں پائی جاتی ہوں گی۔ اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں بارہا اپنے متعلق یہ ذکر فرمایا ہے کہ میں امتی نبی ہوں یعنی محمد صلی علیم کے نقطہ نگاہ سے میں امتی ہوں مگر تم لوگوں کے نقطۂ نگاہ سے میں نبی ہوں۔ جہاں میرے اور تمہارے تعلق کا سوال آئے گا وہاں تمہیں میری حیثیت وہی تسلیم کرنی پڑے گی جو ایک نبی کی ہوتی ہے۔ جس طرح نبی پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے اسی طرح مجھ پر ایمان لانا ضروری ہو گا جس طرح نبی کے احکام کی اتباع فرض ہوتی ہے اسی طرح میرے احکام کی اتباع تم پر فرض ہو گی مگر جب میں محمد صلی العلم کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوں گا تو اس وقت میری حیثیت ایک امتی کی ہو گی اور محمد صلی علیم کا ہر فرمان میرے لئے واجب التعمیل ہو گا اور آپ کی رضا اور خوشنودی کا حصول میرے لئے ضروری ہو گا ۔ گویا جس طرح ایک ہی وقت میں دادا اور باپ اور پوتا اکٹھے ہوں تو جو حالت ان کی ہوتی ہے وہی محمد صلی علیم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہے۔ ایک باپ جب اپنے باپ کی طرف منہ کرتا ہے تو وہ باپ کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ بیٹے کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن وہی باپ جب اپنے بیٹے کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی حیثیت باپ کی ہو جاتی ہے اور بیٹے کا فرض ہوتا ہے کہ اس کا ہر حکم مانے۔ بیٹا یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب تم اپنے باپ کی طرف منہ کر کے کھڑے تھے تو اس وقت تمہاری حیثیت بیٹے کی تھی نہ کہ باپ کی تو اب تمہاری حیثیت باپ کی کس طرح ہو سکتی ہے کیونکہ اب اس کا مُنہ اپنے باپ کی طرف نہیں بلکہ اپنے بیٹے کی طرف ہو گا۔ یہی حیثیت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی عطا فرمائی ہے۔ وہ امتی بھی ہیں اور نبی بھی۔ وہ نبی ہیں ہم لوگوں کی نسبت سے اور وہ امتی ہیں محمد صلی علیہ سلم کی نسبت سے۔ عیسی نبی تھے موسی کی طرف منہ کر کے بھی صرف اپنی امت کی طرف منہ کر کے ہی نبی نہیں تھے۔ اسی طرح داؤد نبی تھے موسیٰ کی طرف منہ کر کے بھی ،