خطبات محمود (جلد 21) — Page 255
1940ء 254 (19) خطبات محمود عقائد کا فیصلہ کسی بورڈ سے نہیں کرایا جا سکتا (فرمودہ 19 جولائی 1940ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ”میرے سامنے اخبار پیغام صلح کے ایک مضمون کا ایک خلاصہ پیش کیا گیا ہے جس میں مولوی محمد علی صاحب نے اس بات پر زور دیا ہے کہ میں تین ماہ سے فیصلہ کا ایک آسان طریق پیش کر رہا ہوں مگر اسے قبول نہیں کیا جاتا اور وہ طریق یہ ہے کہ اختلافی مسائل کا تصفیہ دونوں جماعتوں کے امام آپس میں کر لیں اور فیصلہ کے لئے ایک بورڈ مقرر کر لیا جائے جس میں دس ممبر ہوں۔ پانچ میں ان کی جماعت میں سے چن لوں اور پانچ وہ ہماری جماعت میں سے چن لیں اور پھر یہ بورڈ فیصلہ کر دے کہ کس کے عقائد صحیح ہیں۔ مولوی صاحب کا خیال یہ ہے کہ وہ یہ طریق تین ماہ سے پیش کر رہے ہیں مگر جہاں تک مجھے یاد ہے وہ غالباً 1915ء سے یہ طریق پیش کر رہے ہیں اور اس طرح تین ماہ نہیں بلکہ 23 سال ان کی اس تجویز پر گزر چکے ہیں۔ اور میں نے اس 23 سال کے عرصہ میں اسے قبول نہیں کیا بلکہ کئی دفعہ اس کا جواب بھی دے چکا ہوں۔ اس تجویز پر اول تو مجھے یہ اعتراض ہے کہ مذہبی عقائد کا فیصلہ کوئی دوسرا شخص کرے وہ پانچ آدمی تو الگ رہے جو وہ ہماری جماعت سے منتخب کریں گے اور وہ بھی الگ رہے جو میں ان کی جماعت سے کروں گا میں تو مذہبی عقائد کے بارہ میں اپنی بیوی، بیٹوں اور بھائیوں کا فیصلہ بھی منظور کرنے کو تیار نہیں۔ مجھے شریعت میں