خطبات محمود (جلد 20) — Page 532
خطبات محمود ۵۳۲ سال ۱۹۳۹ ء غلط عقیدہ کی اشاعت کے لئے کئی کروڑ روپیہ سالانہ خرچ کر رہے ہیں لیکن اس تحریک کے ماتحت اگر کوئی فنڈ قائم بھی کیا جا سکے تو وہ اتنا محدود ہو گا کہ ہماری آئندہ کوششوں اور ضرورتوں پر حاوی نہیں ہو سکتا ۔ آج ہماری جماعت چند لاکھ ہے اور اس کی کوششیں بھی چند لاکھ روپیہ تک محدود ہیں مگر جب اس کی تعداد کروڑوں کی ہوگی تو روپیہ بھی کروڑوں کی تعداد میں خرچ کرنا پڑے گا اور پھر جب یہ اربوں کی تعداد میں ہو جائے گی تو اسی نسبت سے ضروریات کے لئے روپیہ بھی اربوں خرچ ہو گا ۔ ہماری جماعت کے قیام کی اصل غرض یہ ہے کہ پہلے مسلمانوں کی تربیت کریں اور جو مسلمان نہیں کہلاتے ان میں اشاعت اسلام کریں اور اس کی راہ میں جو روکیں ہیں انہیں دور کریں اور نئے سرے سے اسلام کی ترقی کے سامان کریں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاما بتایا ہے اپنی کوششوں کو اس حد تک اور اس وقت تک جاری رکھیں کہ دُنیا میں احمدیت ہی احمدیت نظر آئے اور باقی لوگ ادنی اقوام کی طرح قلیل تعداد میں رہ جائیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاما بتایا ہے کہ احمد یت بڑھتے بڑھتے تین سو سال میں ایسے مقام پر پہنچ جائے گی کہ دُنیا میں اسے ہی غلبہ حاصل ہوگا اور جو لوگ اس سے باہر رہیں گے وہ ایسی ہی قلیل تعداد اور کمزور حالت میں رہ جائیں گے جس حالت میں کہ آج ہندوستان میں ادنیٰ کہلانے والی اقوام ہیں مگر یہ چیز ہمیں جادو سے حاصل نہیں ہو جائے گی ۔ یہ نہیں ہو گا کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے اتر کر مداری کی طرح کوئی ڈنڈا ہلائیں گے اور دُنیا میں احمدیت کو غلبہ حاصل ہو جائے گا بلکہ یہ اسی طرح ہو گا جس طرح کہ ہمیشہ سے قاعدہ چلا آتا ہے۔ اس جماعت کو ترقی اسی طرح ہو گی جس طرح کہ الہی سلسلوں کو ہوتی ہے اور یہ ہماری جدو جہد اور قربانیوں سے ہوگی ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ چونکہ خدا تعالیٰ کی قضا و قدر ہے اس لئے ضرور ہو کر رہے گی ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جماعت میں کمزوریاں ہیں اس کی رفتار ترقی بہت سست ہے۔ یہ کس طرح ساری دنیا میں پھیل سکے گی ۔ یہ لوگ دُنیا میں اس قدر انقلاب کیسے پیدا کر سکتے ہیں مگر سوال یہ نہیں کہ ہماری حالت کیسی ہے اور طاقت کتنی ہے بلکہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے اور اس لئے وہ خود ایسے لوگ پیدا کر دے گا جو دنیا کا تختہ الٹ کر رکھ دیں گے۔ پس سوال ہماری موجودہ کوششوں کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس پیج کو