خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 47

خطبات محمود ۴۷ سال ۱۹۳۹ ء عورتوں کے متعلق مفید کام کر رہی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آہستہ آہستہ مجلس خدام الاحمد یہ بھی یہ کام اپنے لائحہ عمل میں شامل کرلے اور بے کار مردوں کے متعلق ان کا یہ فرض ہو کہ وہ ان کے لئے کام مہیا کریں ۔ بظاہر یہ کام مشکل ہے لیکن اگر وہ سمجھ سے کام لیں گے اور غور کرنے کی عادت ڈالیں گے تو وہ کئی ایسی سکیمیں بناسکیں گے جن کے ماتحت بیکاروں کو کام پر لگایا جا سکے گا ۔ جب اس قسم کے بے کا ر لوگ کام پر لگ جائیں گے تو اس سے نہ صرف بے کاروں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ سلسلہ کو بھی مالی لحاظ سے فائدہ پہنچے گا کیونکہ وہ چندے دیں گے اور اس طرح سلسلہ کو مضبوطی حاصل ہوگی ۔ پس یہ اس شخص کا ہی نہیں بلکہ سلسلہ کا بھی فائدہ ہے۔ یہ ایک اہم کام ہے جس کی طرف جماعتوں کے پریذیڈنٹوں ، سیکرٹریوں اور مجلس خدام الاحمدیہ کے ممبران کو توجہ کرنی چاہئے ۔ اسی طرح مجلس خدام الاحمدیہ کے ممبران کو چاہئے کہ وہ ایک پروگرام بنا کر اس کے ماتحت کام کیا کریں۔ یونہی بغیر سوچے سمجھے کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اب بھی ہاتھ سے کام کرتے ہیں مگر وہ کام کسی پروگرام کے مطابق نہیں ہوتا ۔ حالانکہ جس طرح بجٹ تیار کئے جاتے ہیں اسی طرح انہیں اپنے کام کے پروگرام وضع کرنے چاہئیں مثلاً ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہے اِس بارہ میں یونہی بغیر پروگرام کے اِدھر اُدھر کام کرتے پھرنے کی بجائے اگر وہ کسی ایک سڑک کو لے لیں اور اپنے پروگرام میں یہ بات شامل کر لیں کہ اُنہوں نے اس سڑک پر بھرتی ڈال کر اسے ہموار کرنا اور اس کے گڑھوں کو پُر کرنا ہے یا اسی طرح کا کوئی اور کام اپنے ذمہ لے لیں اور اسے وقت معین کے اندر مکمل کریں تو یہ بہت محمدہ نتیجہ پیدا کرے گا بہ نسبت اس کے کہ بغیر ایک معین پروگرام کے وہ کام کرتے جائیں ۔ مگر یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ بھرتی کے کیا معنے ہیں ۔ گزشتہ سال جلسہ سالانہ پر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب آئے تو اُنہوں نے مجلس خدام الاحمدیہ کے اراکین سے کہا کہ اب کی دفعہ جب کام کرو تو مجھے بھی بلا لینا۔ چنانچہ اُنہوں نے انہیں بلا لیا اور وہ بھی ہاتھ سے کام کرتے رہے مگر چوہدری صاحب نے مجھے بتایا کہ ان کے ساتھ مل کر کام کرنے میں مجھے معلوم ہوا کہ ان کے کام میں ایک نقص بھی ہے اور وہ یہ کہ سڑک پر جب وہ مٹی ڈال رہے تھے تو سڑک کے پاس ہی ایک گڑھا کھود کر وہاں سے