خطبات محمود (جلد 20) — Page 46
خطبات محمود ۴۶ سال ۱۹۳۹ ء کہ وہ رو پیریو یو آف ریلیجنز پر خرچ ہوتا ہے یا کسی غریب شخص پر خرچ ہوتا ہے ۔ اگر اسلام کا فائدہ اس میں ہے کہ سلسلہ کا روپیہ ایک غریب کو مل جائے تو اس میں مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ میری غرض تو اس قسم کی نصائح سے یہ ہے کہ ہماری جماعت کے اخلاق بلند ہو جا ئیں اور اس میں عزت نفس کا مادہ پیدا ہو جائے اور لوگ یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے نفس کو بھی کوئی شرف بخشا ہوا ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی قدر و قیمت کو سمجھتے ہوئے بلا وجہ اس کی تحقیر نہ کریں۔ یہ روح ہے جو م جو میں جماعت میں پیدا کرنا چاہتا پیدا کرنا چاہتا ہوں اور یہی وہ تعلیم یہی وہ تعلیم ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ۔ پس یہ روپیہ مجھے تو نہیں ملتا کہ مجھے یہ فکر ہو کہ فلاں کو نہ ملے اور فلاں کو مل جائے ۔ اگر یہ روپیہ مجھے ملتا تو کسی کو بدظنی کا موقع مل سکتا تھا اور وہ خیال کر سکتا تھا کہ شاید میں نے اپنے ذاتی فائدہ کے لئے دوسروں کو اس سے محروم کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ مگر جب یہ روپیہ میرے پاس نہیں آتا نہ میری ضروریات پر خرچ ہوتا ہے تو مجھے اس میں ذاتی دلچسپی کیا ہو سکتی ہے؟ پس مجھے ذاتی دلچسپی اس میں کوئی نہیں ہاں اتنی دلچسپی ضرور ہے کہ میں چاہتا ہوں جماعت کے اخلاق بہت بلند ہوں اور وہ دوسروں سے مانگنے کی عادت ترک کر دیں ۔ پس پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کو چاہئے کہ وہ جماعت کے دوستوں کے سامنے یہ مسائل واضح کرتے رہا کریں ۔ میں نے دیکھا ہے اسی نقص کی وجہ سے کہ لوگوں کو مسائل بتائے نہیں جاتے۔ قادیان میں مردوں اور عورتوں کو بلا وجہ سوال کرنے کی عادت ہے اور بجائے کام کرنے کے وہ مانگ کر کھا لینا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں حالانکہ ہمیشہ کام کر کے کھانے کی عادت ڈالنی چاہئے اور یہی عادت ہے جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ ہاں جہاں کام نہ ملتا ہو وہاں کام مہیا کرنا پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کا کام ہے لیکن جب کام مل جائے تو پھر اس کے کرنے میں کوئی عذر نہیں ہونا جوا چاہئے ۔ پس کام مہیا کر نا ہمارا کام ہے۔ گو پھر حکومت نہ ہونے کی وجہ سے ہم پوری طرح اس فرض کام کو سر انجام نہیں دے سکتے مگر پھر بھی ہمارا فرض ہے کہ جس حد تک ہم کام مہیا کر سکتے ہوں اُس لوسر دے سکتے ہمارا ہے حد تک جماعت کے دوستوں کے لئے کام مہیا کریں ۔ میں نے بتایا ہے کہ لجنہ اس سلسلہ میں