خطبات محمود (جلد 20) — Page 264
خطبات محمود ۲۶۴ سال ۱۹۳۹ ء جو چوریاں بھی کر لیتے ہیں مگر ایسے لوگ جماعت کا حصہ نہیں ہیں ان کا احمدی کہلانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی بھیڑ یا بھیڑ کی کھال پہن لے۔ ایسے خبیث الطبع لوگ احمدیت سے دور ہیں ۔ احمدی وہی ہیں جو سچائی پر قائم ہیں جو اپنے اخلاص ، تقویٰ اور رضاء الہی کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔ ایسی پاکبازوں کی جماعت کو دنیا میں کوئی ڈرا نہیں سکتا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر غار ثور میں موجود تھے کہ دشمن سر پر پہنچ گیا اور کھوج لگانے والے نے کہا کہ یا تو آپ اس غار میں ہیں اور یا آسمان پر چلے گئے ہیں اس سے آگے نہیں گئے ۔ حضرت ابو بکر اس موقع پر گھبراتے ہیں مگر آپ فرماتے ہیں لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا ابوبکر ڈرونہیں اللہ تعالیٰ ہمار۔ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے لیے پس ان بزدلوں ، بد گہروں اور شریر النفسوں کو چھوڑ کر جو احمدیت کی ہتک کرنے والے اور اپنے بُرے نمونہ سے اسے بد نام کرنے والے ہیں مخلصین سے میں کہتا ہوں کہ ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ یہ احراری اور گورنمنٹ کے وہ عہد یدار جن کے دلوں میں ہمارا بغض ہے بلکہ اگر کسی وقت دُنیا کی ساری گورنمنٹیں بھی اکٹھی ہو کر آئیں تو احمدیت کا بال بیکا نہیں کر سکتیں وہ طاقتیں اور حکومتیں خود تباہ ہو جائیں گی مگر احمدیت کامیاب اور مظفر و منصور ہوکر رہے گی ۔“ 66 اس کے بعد حضور نے نماز پڑھائی اور سلام پھیرنے کے ساتھ ہی فرمایا کہ سب دوست اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہیں اور فرمایا کہ : - نماز کے اختتام کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ خواب میں جو دلیل بیان کرنے لگا تھا اور جس کے بیان کرنے سے خواب والے معترضین نے مجھے روک دیا تھا وہ میں اب اختصار کے ساتھ بیان کر دوں ۔ وہ دلیل یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورۃ فاتحہ بہت دفعہ سکھائی تو متواتر سکھانے پر ایک دفعہ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول الله مَغْضُوبِ کون ہیں؟ اور ضال کون؟ آپ نے فرمایا کہ مَغْضُوبِ سے مراد یہودی اور ضال سے مراد نصاری ہیں ۔ ہے۔ اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی تشریح فرمادی ۔ یہودیت اپنی ذات میں کوئی بُری چیز نہیں ۔ یہودی حضرت موسی کی قوم ہیں اور آپ کے لائے ہوئے مذہب پر چلنے والے ۔